زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 334

زریں ہدایات (برائے طلباء) 334 جلد سوم جارہے ہیں درست نہیں۔تم جاتے کہاں ہو تم تو نہیں ہو کیونکہ جب تم جارہے ہو تمہاری نیست یہی ہے کہ پھر آؤ اور بار بار آؤ۔پس اپنی ہمتوں کو بلند کر واور ساری دنیا کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو تیار کرو۔جیسا کہ میں نے انصار اللہ سے عہد لیا ہے تم نہ اپنے لئے بلکہ دنیا کے لئے کام کرو تا کہ تمہاری زندگیاں مفید ہوں۔میں اس تقریب کے خاتمہ پر بچوں کے لیے دعا کروں گا چونکہ یہاں اس وقت مختلف عقائد اور مختلف مذاہب کے لوگ بیٹھے ہیں اس لئے اعلان کرتا ہوں کہ جو دعا کے قائل نہ ہوں وہ بے تکلفی سے بیٹھے رہیں اور دعا میں شریک نہ ہوں یا جس طرح اور جس طریق سے چاہیں دعا کریں۔ولایت میں ہم اسی طرح کرتے رہے۔ہماری کسی مجلس میں جس میں دعا کی جاتی جو لوگ دعا کے قائل نہ ہوتے انہیں کہہ دیا جاتا وہ جس طرح چاہیں عمل کریں دکھاوے کی ضرورت نہیں۔ہم ان کے دعا میں شریک نہ ہونے کو نا پسند نہیں کریں گے۔“ 1: المعجم الكبير جلد 6 صفحہ 228 مطبوعہ عراق 1979ء (الفضل 28 مارچ 1931ء)