زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 325
زریں ہدایات (برائے طلباء) 325 جلد سوم سے یا اور بعض وجوہات سے وہ اپنی احمدیت کا اظہار نہیں کرتے۔ایسے لوگوں میں مولوی بھی ہیں، علماء بھی ، تاجر بھی ، صناع بھی۔پس ایسے لوگوں سے کہنا چاہئے کہ کب تک وہ چھپے رہیں گے۔انہیں کہو کہ اپنے آپ کو ظاہر کریں اور جو ایسے نہیں انہیں تبلیغ کروتا وہ بھی سلسلہ میں داخل ہوں۔میں چھوٹا تھا میں نے اُس وقت ایک رؤیا دیکھی جو اُس وقت کی عمر کے لحاظ سے ہی تھی۔میں نے دیکھا کبڈی کا میچ ہو رہا ہے۔ایک طرف احمدی ہیں اور دوسری طرف غیر احمدی ، غیر احمدیوں کا کپتان مولوی محمد حسین بٹالوی ہے جو ایک سفید سا جبہ پہنے ہوئے ہے۔میں نے اُس وقت مولوی محمد حسین بٹالوی کو نہیں دیکھا تھا اور جب پہلی مرتبہ میں نے اسے دیکھا تو سفید جبہ میں ہی دیکھا۔کبڈی کھیلتے ہوئے جب غیر احمدیوں کی طرف سے کبڈی دینے والا آتا ہے تو احمدی اسے پکڑ کر اپنی طرف بیٹھا لیتے ہیں۔یہاں تک کہ سارے غیر احمدی اس طرف آگئے۔صرف مولوی محمد حسین بٹالوی پیچھے رہ گئے۔تب میں نے دیکھا کہ وہ بھی آہستہ آہستہ دیوار سے سمٹ سمٹ کر اس طرف بڑھنے شروع ہوئے اور لکیر پر پہنچ کر یہ کہتے ہوئے کہ اچھا سارے آگئے ہیں تو میں بھی آجاتا ہوں اس طرف آگئے۔یہی اب لوگوں کے دلوں کی کیفیت ہو رہی ہے۔اب صرف انہیں توجہ دلانی چاہئے اور کہنا چاہئے کہ وہ اس طرف آجائیں۔اور میں سمجھتا ہوں دوست اگر ہمت سے کام کریں تو ایک دو سال کے عرصہ میں ہی کثرت احمد یوں کی ہو سکتی ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ بعض ایسے بھی علاقے ہیں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام تک نہیں پہنچا مگر قریب قریب کے تمام علاقوں میں آپ کا نام پہنچ چکا ہے۔اور اب در حقیقت ملتِ يَوْمِ الدِّینِ 3 والا دن آ چکا ہے۔یعنی نتائج نکلنے والا دن۔اب چاہئے کہ احمدی تبلیغ کے لئے نکل کھڑے ہوں اور ہر گاؤں والوں سے پوچھیں کہ ان کی رشتہ داریاں کہاں کہاں ہیں اور پھر ان کے رشتہ داروں سے ملیں۔اور پھر اس طرح سب رشتہ داروں کو احمدیت کی تبلیغ کریں۔ہر شخص کی زبان پر احمدیت کا چرچا ہو۔اگر یہ کیفیت لوگوں میں