زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 324

زریں ہدایات (برائے طلباء) 324 جلد سوم ނ اٹھیں اور تبلیغ کا کام کریں۔اور میں سمجھتا ہوں اگر وہ اپنے مدرسہ میں تبلیغ کا انتظام کریں تو ان سے اچھا انتظام کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس لڑکے مدرسہ احمدیہ کے لڑکوں۔زیادہ ہیں اور اسی طرح پھر لوکل انجمن کا کام بھی مدرسہ احمدیہ کے لڑکوں کے تبلیغی کام سے اس دفعہ بہت کم ہے۔میں انہیں بھی توجہ دلاتا ہوں۔مدرسہ احمدیہ کے 80 یا 90 بورڈر ہیں اور سارے سکول میں دوسو کے قریب لڑکے ہیں۔لیکن یہاں کی باقی احمدی آبادی چھ ہزار کے قریب ہے۔اگر دونوں سکولوں کے لڑکے نکال دیئے جائیں تو ساڑھے پانچ ہزار کے قریب افراد رہ جاتے ہیں۔اور اگر عورتوں اور بچوں کو نکال دو تب بھی دو ہزار کام کرنے والے مرد رہتے ہیں۔اگر دو ہزار آدمی بھی ان 80 طالب علموں جتنا تبلیغی کام نہ کر سکیں تو کتنی افسوس کی بات ہوگی۔میں نے خطبہ جمعہ میں بھی توجہ دلائی تھی۔اور اب پھر کہتا ہوں کہ اگر سارے دوست ہمت کر کے کھڑے ہو جائیں اور زور لگائیں تو ایک سال میں ہی سارے علاقے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام پھیل سکتا ہے اور ہزاروں نئے احمدی بن سکتے ہیں۔میں نے ابھی مردم شماری کے موقع پر یہ تحریک کی تھی کہ وہ لوگ جو دل میں احمدی ہیں مگر بعض وجوہات کے ماتحت اپنی احمدیت کا اظہار نہیں کر سکتے انہیں چاہئے کہ وہ کم از کم اس موقع پر اپنے آپ کو احمدی لکھا دیں تا خدا کے نزدیک کم از کم ایک گواہی ان کے احمدی ہونے پر ہو جائے۔مجھے اس کے متعلق ایک جگہ سے چٹھی آئی ہے کہ یہاں پہلے صرف چار احمدی تھے مگر جب اس تحریک کے ماتحت لوگوں نے اپنے نام لکھوائے تو اس جگہ کے پچاس گھروں نے اپنے آپ کو احمدی لکھا دیا اور عید کے دن بڑی تعداد کے ساتھ نماز پڑھی گئی۔تو کئی ایسے ہیں جو دلوں میں احمدی ہیں مگر کسی ڈر کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرتے وگرنہ احمدیت ان کے دلوں میں گھر کر چکی ہے۔اور قادیان کے ارد گرد کے دیہات کے لوگ اس امر کو خوب سمجھ چکے ہیں۔صداقت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس قدرنشانات وہ دیکھ چکے ہیں جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن رشتہ داروں کی مخالفت کی وجہ