زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 326
زریں ہدایات (برائے طلباء) 326 جلد سوم پیدا ہو جائے تو سارے لوگ یکدم یا آہستہ آہستہ سلسلہ میں داخل ہو جائیں۔پس میں سمجھتا ہوں کہ سب دوستوں کو ہمت سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ان بچوں نے نہایت خوبی سے کام کیا ہے۔تلاوت کرنے والے لڑکے نے جس رنگ میں تلاوت کی ہے اسے دیکھ کر امید پڑتی ہے کہ یہ انشاء اللہ ایک دن بہت اچھا حافظ بنے گا۔باقیوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے لہجہ کو موثر بنا ئیں تا کہ سننے والوں پر بہت اچھا اثر پڑے۔میں امید کرتا ہوں کہ ان بچوں کے عملی نمونہ کو دیکھ کر بڑوں کے دلوں میں بھی جوش پیدا ہو گا۔مقامی لوکل انجمن کے پریذیڈنٹ بھی میں نے سنا ہے اب مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے ہیں اس لئے انہیں اور بھی توجہ کرنی چاہئے۔اور اب تو ان کے لئے خاص طور پر تبلیغی کام کو وسعت دینے کا موقع ہے۔کیونکہ لڑکوں کے علاوہ دوسرے لوگوں سے بھی وہ کام لے سکتے ہیں۔اب وقت ہے کہ وہ زور سے کام کریں۔اسی طرح میں نظارت دعوت و تبلیغ کو بھی توجہ دلاؤں گا کہ صرف قادیان اور اس کے گردونواح میں ہی نہیں بلکہ سارے ملک میں تبلیغ کا انتظام کرے۔میں چاہتا ہوں کہ ایک تبلیغ کا ہفتہ تجویز کروں جس میں ہر احمدی اپنا کام چھوڑ کر تبلیغ کے لئے نکل کھڑا ہو تا سارے ملک میں شور مچ جائے۔سب شہروں میں جلسے ہوں۔میری بھی تقریریں ہوں۔میں موٹر پر سفر کروں۔مثلاً صبح امرتسر تقریر کروں ، پھر لاہور پھر اگلے شہروں میں۔اسی طرح سات دنوں میں سمارے علاقے کا دورہ ہو جائے۔باقی جماعت کے لوگ بھی اس ہفتے میں تبلیغ کے لئے وقف ہوں اور یوں معلوم ہو کہ اب ساری دنیا کو ہم نے احمدیت میں داخل کر لیتا ہے۔لیکن میں کہتا ہوں ساری دنیا کو تو الگ رہا پہلے کم از کم اپنے ضلع کو تو محفوظ کر لو۔احمدیت کے لئے ایک ہفتہ کی بجائے تبلیغ احمدیت کا ایک دن ہی مقرر کر لو اور اس میں اس طرح شور ڈال دو کہ یوں نظر آئے آج زمین بھی اور آسمان بھی ، درخت بھی ، پانی کے قطرے بھی، بچے بھی اور بڑے بھی سب تبلیغ کے لئے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔اب میں دعا کرتا ہوں باقی دوست بھی دعا کریں۔میں ان بچوں کے لئے خاص طور