زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 24
زریں ہدایات (برائے طلباء) 24 جلد سوم اور اگر وہ بھی اسی طرح تیار ہیں تو ہم بھی اس بات کا اقرار کرنے کے لیے تیار ہیں کہ انہوں نے واقعہ میں سچے دل اور کچی محبت کے ساتھ ایڈریس دیا اور دعوت کی ہے۔لیکن اگر وہ اپنے لئے اس بات کو پسند نہ کرتے ہوں تو اس سے یہی نتیجہ نکلے گا کہ انہوں نے صرف رسمی طور پر خوشی کا اظہار کیا ہے درحقیقت انہیں کوئی خوشی نہیں ہے۔مگر جہاں تک مجھے معلوم ہے صحیح بات یہی ہے کہ تم نے سچے دل کے ساتھ اور سچی محبت کے اظہار کے لئے ایسا کیا ہے اس لئے میں ایڈریس دینے والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں انہوں نے مٹھائیوں اور چائے اور بسکٹ اور الفاظ کے ساتھ ظاہر کیا ہے کہ انہوں نے مفتی صاحب کی روانگی کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے وہاں انہیں چاہئے کہ اپنے فعل سے بھی پسندیدگی کا اظہار کریں۔مدرسہ احمدیہ کے طلباء کا تو کام ہی یہی ہے اور وہ اسی لئے تیار کئے جارہے ہیں کہ تبلیغ کریں لیکن مدرسہ انگریزی کے طلباء کو بھی اپنے آپ کو اسی کام کے لئے تیار کر نا چاہئے۔قرآن کریم میں خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تمہیں کوئی تحفہ دے تو تم اسے کم از کم اتنا ہی تحفہ تو ضرور دو 1 ہمارے انگریزی خواں نو جوانوں کو سوچنا چاہئے کہ گورنمنٹ برطانیہ سے انہیں کس قدر فائدہ پہنچا ہے۔اگر وہ دیکھیں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ انہیں انگریزی زبان کے ذریعہ جو فائدے پہنچے ہیں وہ دراصل اس زبان والوں ہی سے پہنچے ہیں۔ابھی کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب سمجھا جاتا تھا کہ آسمان زمین کے کناروں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اور ہم زمین کے کناروں تک پہنچ کر آسمان پر پہنچ سکتے ہیں۔چنانچہ مشہور تھا کہ حاتم وہاں تک پہنچ بھی گیا تھا یہ تو جغرافیہ کی حالت تھی جس کو دیکھ کر حیرت ہی آتی ہے۔پھر تاریخ بگڑ کر ایسی صورت اختیار کر چکی تھی کہ اُس وقت کے حالات سن کر حیرانی آتی ہے۔کہتے ہیں کہ کوئی بادشاہ کسی بزرگ سے ملنے کو گیا۔وہ بزرگ اپنی تاریخی واقفیت جتلانے کے لئے اسے کہنے لگے تمہیں دین کی بہت خدمت کرنی چاہئے اس سے بڑا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔دیکھو سکندر ایک مسلمان بادشاہ گزرا ہے اس نے دین کی خدمت کی تو کس قدر نام پایا۔یہ اور اسی قسم کی اور بیسیوں جاہلانہ باتیں پھیلی ہوئیں تھیں۔مگر ان لوگوں نے اس قسم کی جہالتوں سے تم کو نکالا اور تم میں اس قسم کے خیالات پیدا