زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 25
زریں ہدایات (برائے طلباء) 25 جلد سوم کر دیئے جو علمی اور اعلیٰ درجہ کے ہیں تو یہ انگریز لوگ تمہیں دنیاوی لحاظ سے ظلمت سے نکال کر روشنی میں لے آئے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ ان سے پہلے بھی علمی باتیں موجود تھیں مگر کوئی وجہ نہیں ہے کہ جب ان کے ذریعہ پہلے کی نسبت بہت زیادہ علمی با تیں ہم تک پہنچی ہیں تو ہم ان کا احسان نہ مانیں۔پھر یہ بھی غلط خیال ہے کہ انہوں نے چونکہ اپنے فائدہ اور نفع کے لئے ایسی باتیں بتائی ہیں اور لوگوں کو اعلیٰ درجہ کے علوم پڑھائے ہیں اس لئے ہم پر ان کا کوئی حق نہیں ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ اس میں ان کا اپنا بھی فائدہ ہے اور انہوں نے فائدہ حاصل کیا ہے لیکن اس سے ان کے احسان کے نیچے سے کوئی اسی طرح نہیں نکل سکتا جس طرح ایک شریر اور بد بخت لڑکا اپنے ماں باپ کو یہ کہہ کر ان کے احسانات سے آزاد نہیں ہو سکتا کہ انہوں نے اپنے کسی مزے کے لئے تعلقات قائم کئے تھے اور میں پیدا ہو گیا اس لئے مجھ پر ان کے کوئی حقوق نہیں۔لیکن اگر ہم یہی سمجھ لیں کہ انہوں نے اپنے ہی فائدے کے لئے ایسا کیا ہے تو یہی ہم پر ان کا بہت بڑا احسان ہے۔اس احسان کا بدلہ کس طرح ادا کیا جاسکتا ہے۔قرآن کریم تو حکم دیتا ہے کہ جو تمہارے لئے اچھی دعا کرے اس کے لئے تم بھی اچھی دعا کرو۔تو جو علمی طور پر فائدہ پہنچائے اور احسان کرے اس کے سلوک کا بدلہ دینا تو نہایت ضروری ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هَلْ جَزَاء الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ 2 جو کسی سے کوئی سلوک کرے اس کو بھی چاہئے کہ اس کے احسان کے بدلہ میں احسان کرے یعنی دوسرا ایسا بہتر سلوک کرے کہ اس کا سلوک بھی احسان کہلا سکے کیونکہ اگر وہ بھی اسی قدر کرے گا جس قدر کہ اس کے ساتھ کیا گیا ہے تو یہ بدلا ہوگا نہ کہ احسان احسان اُسی وقت احسان ہو گا جبکہ بڑھ کر سلوک کیا جائے گا۔اب ہم کیا کریں کہ گورنمنٹ کے احسان کے بدلہ میں احسان کریں۔یہ تو ناممکن ہے کہ ہندوستان کے لوگ انگریزوں کو دنیوی علم کے بدلہ میں دنیوی علم سکھائیں۔پھر کیا کیا جائے ؟ غیر مذاہب والے تو شاید کہہ دیں گے کہ ہمارا مذہب ایسے موقع کے متعلق کچھ نہیں بتاتا لیکن ہمارا مذہب تو یہ کہتا ہے کہ احسان کا بدلہ اس سے بہتر دو۔اب بہتر بدلہ کیا ہو سکتا ہے؟ یہ کہ انہوں نے ہمیں دنیاوی علوم سکھائے ہیں ہم انہیں دینی علوم سکھائیں۔اور یہ دین ایک ایسی چیز