زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 284

زریں ہدایات (برائے طلباء) 284 جلد سوم رسول کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کے متعلق یہی معلوم ہوتا ہے اور ایسی شہادتوں سے معلوم ہوتا ہے جن کا براہ راست پردہ سے تعلق نہیں۔ایک ایسی شہادت ہوتی ہے جو کسی خاص مقصد کو ثابت کرنے کے لئے ہوتی ہے۔اُس وقت کہا جا سکتا ہے کہ اپنی غرض پوری کرنے کے لئے یہ شہادت بنائی گئی ہے۔لیکن اگر کسی دوسرے واقعہ سے ایسا نتیجہ نکلتا ہو جس سے ایک بات کی تصدیق ہوتی ہو تو وہ بہت مضبوط شہادت ہوگی۔اس وقت میں جس بات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ اسی قسم کی ہے۔حضرت عائشہ کے متعلق آتا ہے کہ تین دن کی لڑائی کے بعد ایک خبیث الفطرت نے ان کا پردہ اٹھا کر کہا یہ تو سفید رنگ کی عورت ہے 2 اگر منہ بالکل کھلا رکھا جاتا تھا تو تین دن کی لڑائی کے بعد یہ نہ کہا جاتا کہ ان کا رنگ ایسا ہے۔کیونکہ حضرت عائشہ خود فوج کولڑاتی رہی تھیں انہیں بآسانی دیکھا جا سکتا تھا۔اسی طرح اور امور کے متعلق بعض روایتیں ہیں جن سے پردہ کے متعلق یہی پتہ لگتا ہے کہ عورتیں منہ بند رکھتی تھیں، گھونگٹ ہوتا تھا۔اس کے مقابلہ میں ایسی روایتیں بھی آتی ہیں کہ کہ سب کام کاج کرنے والی عورتیں منہ کا ایک حصہ کھلا رکھتی تھیں۔اس سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ عورتیں ایسا کرتی تھیں۔عبد اللہ بن زبیر کا ذکر آتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں انہوں نے شادی کرنی چاہی تو ایک عورت کو بھیجا کہ فلاں عورت کا رنگ اور شکل دیکھ کر مجھے بتاؤ اگر عورتیں باہر کھلے منہ پھرا کرتیں تو انہیں رنگ اور شکل دیکھنے کے لئے ایک عورت کو بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔اسلام نے یہ جائز رکھا ہے کہ مرد شادی سے پہلے عورت کو دیکھ سکتا ہے مگر اُس وقت جب کہ شادی کے متعلق باقی شرائط طے ہو جائیں اور صرف شکل وصورت کا سوال باقی رہ جائے۔ایک حدیث میں آتا ہے رسول کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا جس نے آکر کہا میں فلاں جگہ شادی کرنا چاہتا ہوں مگر پتہ نہیں لڑکی کی شکل کیسی ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرما یا اس طرح شکل دیکھنا جائز ہے۔جا کر دیکھ لو۔اس نے جب لڑکی کے باپ سے جا کر کہا تو وہ اس کے لئے