زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 285

زریں ہدایات (برائے طلباء) 285 جلد سوم تیار نہ ہوا۔یہ بات لڑکی بھی سن رہی تھی کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے شادی سے قبل شکل دیکھی جاسکتی ہے۔وہ پردہ اٹھا کر سامنے آگئی کہ جب رسول کریم ﷺ نے فرما دیا ہے یہ جائز ہے تو پھر اس میں کیا حرج ہے 3 معلوم نہیں اس کی شکل ہی اچھی تھی یا شادی کرنے والے کو اس کی یہ ادا پسند آ گئی۔غرض پردہ کے متعلق صاف پتہ لگتا ہے کہ قرآن مجید میں ایسا حکم نہیں ہے جو ہر عورت پر منطبق کیا جا سکے۔بلکہ ہر ایک کے حالات کے مطابق اس کا اطلاق ہوتا ہے۔اگر کوئی گھر سے باہر کام کرنے والی عورت ہے تو اس کے لئے اتنی پابندی نہیں ہے جتنی اس کے لئے ہے جسے گھر سے باہر نکل کر کام نہیں کرنا پڑتا۔اور یہ عقلاً بھی درست بات ہے۔برے خیالات زیادہ تر اسی کو آتے ہیں جو بے کار ہو۔تاہم میرا خیال ہے موجودہ پردہ میں اصلاح کی ضرورت ہے اور وہ یہ کہ اس قسم کا گھونگٹ ہو جو رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ہوتا تھا۔مروجہ نقاب والا پردہ نہ ہو۔ایک نوجوان : کیا سود لینا جائز ہے؟ ہندو ہم سے سود لیتے ہیں۔اگر ہم نہ لیں گے تو ہمارا سارا مال ہندوؤں کے ہاں چلا جائے گا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی: اس بارے میں ہمارا مسلک دوسرے لوگوں سے مختلف ہے۔اس وقت جو کچھ میں بیان کروں گا یہ احمدی عقیدہ ہوگا۔یہ نہیں کہ دوسرے علماء کیا کہتے ہیں۔ہمیں ان سے اختلاف ہے۔ہمارے سلسلہ کے بانی نے یہ رکھا ہے کہ سود اپنی ذات میں بہر حال حرام ہے۔ترکوں نے پہلے یہ فیصلہ کیا تھا کہ بنکوں کا سود سود نہیں۔حنفی علماء کا فتویٰ تھا کہ ہندوستان میں چونکہ انگریزوں کی حکومت ہے اور یہ حربی ملک ہے اس لئے غیر مسلموں سے سود لینا جائز ہے۔اور اب تو یہ حالت ہوگئی ہے کہ کوئی یہ مسئلہ پوچھتا ہی نہیں۔لوگ کثرت سے سود لیتے اور دیتے ہیں۔ہم کہتے ہیں چاہے بنک کا سود ہو چاہے دوسرا دونوں حرام ہیں۔لیکن بانی سلسلہ احمدیہ نے ایک فیصلہ کیا ہے جو اسلام کے دوسرے مسائل سے مستنبط ہوتا ہے۔ایک حالت انسان پر ایسی بھی ہے جب وہ کسی بلا میں مبتلا ہو جاتا ہے اس سے بچنے کے لیے یہ کہنا کہ فلاں چیز جائز ہے اور