زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 283

زریں ہدایات (برائے طلباء) 283 جلد سوم آنے والی تعلیم حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی جائے۔مگر کرتے کراتے کچھ نہیں۔اگر ہم اس کام کو شروع کر دیں تو فورا لوگ کہنے لگ جائیں گے اس میں ان کی کوئی ذاتی غرض ہے اور رکاوٹیں پیدا کرنے لگ جائیں گے۔اس بات کی بہت ضرورت ہے کہ اس قسم کی انجمن ہو جو ہر طالب علم کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے قبل دیکھے اور اندازہ لگائے کہ اس کے لئے کس قسم کی تعلیم مفید ہوسکتی ہے اور وہ کس پہلو میں ترقی کر سکتا ہے۔پھر اس کے مطابق اسے تعلیم پانے کا مشورہ دے۔اگر اس طرح کیا جائے تو دس سال کے اندر اندر عظیم الشان تغیر پیدا ہو سکتا ہے۔اس سے ایک اور بھی فائدہ ہوگا۔اور وہ یہ کہ جس کام میں دماغ خوب چلتا ہوگا اور جس کی طرف طبیعت کا رجحان ہوگا اس میں طالب علم خوب ترقی کر سکے گا۔اس وقت ہندو افسر خواہ کتنا تعصب کریں اتنا نقصان نہ پہنچ سکیں گے جتنا اب پہنچاتے ہیں۔ایک نوجوان عورتوں کا پردہ کس قسم کا ہونا چاہئے؟ حضرت خلیفہ اسیح: جیسا اسلام نے بتایا ہے نوجوان : مروجہ پردہ کیسا ہے؟ حضرت خلیفہ المسح : میں اسے سیاسی پردہ کہا کرتا ہوں۔اس گورنمنٹ میں عصمت کی قیمت روپیہ ہے۔مگر اسلام نے اس کی بہت بڑی قیمت رکھی ہے۔اس لئے مسلمانوں نے احتیاط کے طور پر یہ پردہ اختیار کیا ہے۔اصل پردہ یہ ہے کہ عورت خرید و فروخت، کام کاج کے لئے گھر سے باہر نکل سکتی ہے اور اس قدرمنہ کھلا رکھسکتی ہے جتنا حصہ بنگا کرنا کام کے لئے ضروری ہو۔قرآن کریم میں إلَّا مَا ظَهَرَ 1 کہا گیا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ عورت کو اپنا ضروری کام کرنے کے لئے جتنا حصہ منہ کا ننگا کرنا پڑے کر سکتی ہے۔اسی طرح جہاں ہاتھوں سے کام کرنا ہو وہاں ہاتھ سنگے کر سکتی ہے۔حتی کہ اگر کسی بیماری کی وجہ سے یا بچہ کے پیٹ سے نہ نکل سکنے کی حالت میں آپریشن کرانے کی ضرورت ہو تو کراسکتی ہے۔اس کے مقابلہ میں ایسی عورت جسے معیشت کے لئے کام کرنے کی ضرورت نہیں اتنا مہ نگار کھ سکتی ہے کہ سانس آسانی سے لے سکے، آسانی سے دیکھ سکے اور چل پھر سکے۔یہی صحابہ کرام کا طریق عمل تھا اور یہی رسول کریم ﷺ کا