زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 273

زریں ہدایات (برائے طلباء) 273 جلد سوم نتائج نکلیں گے۔غرض تمام کاموں کے لئے خواہ وہ روحانی ہوں یا جسمانی یہ قاعدہ مقرر ہے کہ مقدور بھر کوشش کرو۔اپنی طرف سے کوتاہی نہ کرو پھر جو کی رہ جائے گی وہ خدا تعالیٰ پوری کر دے گا۔اسی قانون کے ماتحت ضروری ہے کہ سلسلہ کی تبلیغ اور اشاعت کے لئے ایسی جماعت تیار کی جائے جو ہمیشہ کے لئے سلسلہ کے مذہبی اور تبلیغی کاموں کی اپنے آپ کو حامل سمجھے۔ایسی جماعت تیار کرنا بدعت نہیں بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ یہ ایک گم شدہ چیز ہے جسے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قائم کیا۔قرآن کریم میں صاف الفاظ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلْتَكُن مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ أُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ 3 اور دوسری جگہ فرماتا ہے وَمَا كَان الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوْا كَافَّةً فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ 4 کہ تمام کے تمام - لوگ چونکہ مرکز میں نہیں پہنچ سکتے اس لئے چاہئے کہ وہ اپنے میں سے ایک جماعت اس کام کے لئے وقف کر دیں کہ جو دین سیکھے اور پھر جا کر دوسروں کو سکھائے۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ یہ مدرسہ رسول کریم ﷺ کے وقت سے قائم ہے اور قرآن کریم نے قائم کیا ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر وسعت دی۔بے شک آپ سے پہلے عربی مدارس قائم تھے مگر وہ پرانے کالجوں کی بگڑی ہوئی صورتیں ہیں۔یہ ایسے ہی کانج تھے جیسے اس وقت گورنمنٹ کالج ہیں۔سو اگر موجودہ گورنمنٹ کی حالت گر جائے تو سو سال کے اندر اندر ان کالجوں کی وہی حالت ہو جائے گی جو عربی مدارس کی اب ہے۔جن عربی کالجوں کی یہ بگڑی ہوئی شکلیں ہمارے زمانہ میں موجود ہیں وہ اسی طرح کے کالج تھے جس طرح کے حکومت کے اس وقت ہیں۔یعنی دنیوی کا روبار کے لئے ان میں لوگوں کو تیار کیا جاتا تھا نہ کہ تبلیغ کیلئے تعلیم دی جاتی تھی۔وہی تعلیم اب تک چلی جارہی ہے۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ ان مدارس میں سے نکلے ہوئے اکثر لوگ ایسے ہوں گے جو قرآن نہ جانتے ہوں گے۔