زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 272
زریں ہدایات (برائے طلباء) 272 جلد سوم صفات میں سے ہے۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے میری سنت تبدیل نہیں ہوتی۔اور جہاں خدا تعالیٰ باوجود طاقت کے فرماتا ہے میں ایسا نہیں کروں گا پھر وہ نہیں کرتا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفی میں بھی قدرت پائی جاتی ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو خدا تعالیٰ اپنے متعلق کیوں یہ فیصلہ کرتا کہ میں ایسا نہیں کروں گا۔پس جس طرح کوئی بات کرنا خدا تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرتا ہے اسی طرح موقع اور محل کا لحاظ رکھتے ہوئے کوئی فعل نہ کرنا بھی خدا تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے بھی قانون مقرر کئے ہوئے ہیں۔ان قوانین میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی کام کے لئے اس نے جو رستے اور طریق مقرر کئے ہیں اگر ان پر چلا جائے تو با برکت نتائج نکلتے ہیں اور اگر نہ چلا جائے تو ایسے بابرکت نتائج نہیں نکلتے جیسی امید رکھی جاتی ہے۔پس اس میں شبہ نہیں کہ سب کام خدا تعالیٰ ہی کرتا ہے مگر اس میں بھی شبہ نہیں ہے که مقررہ قانون کے مطابق انسان کے لئے کوشش کرنا ضروری ہوتا ہے۔اس میں شبہ نہیں خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کے متعلق فرمایا ہے مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ الله رلى 2 خدا تعالیٰ نے بدر کے موقع پر جو برکت نازل کی اور مخالفوں کو شکست ہوئی اس کے متعلق فرمایا اے محمد ! تم نے نہیں پھینکا تھا۔مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا جب کہ تم نے پھینکا تھا۔اگر سارا کام خدا تعالیٰ نے ہی کرنا تھا تو پھر اِذْ رَمَيْتَ کہنے کی کیا ضرورت تھی۔اس موقع پر خدا تعالیٰ نے نصرت دی اور ایسی نصرت دی کہ اس کے متعلق کہا جاسکتا ہے وَلكِنَّ الله رَلی سب کچھ خدا نے ہی کیا تھا۔مگر اس کے ساتھ إِذْ رَمَيْتَ کہنا بتاتا ہے کہ جب تک محمد ﷺ نے نہیں پھینکا خدا تعالیٰ نے بھی نہیں پھینکا تھا۔بے شک نتیجہ خدا کے پھینکنے سے نکلا مگر اُس وقت جب رَهَيْتَ ہوا یعنی جب رسول کریم نے پھینکا۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے بحر کو پھاڑا مگر اُس وقت جب حضرت موسیٰ علیہ السلام | نے خدا تعالیٰ کے کہنے پر سوشا مارا۔پھاڑا تو خدا نے مگر پھاڑنے کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے وابستہ کر دیا۔مطلب یہ ہے کہ پہلے کوشش کرو پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے