زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 274

زریں ہدایات (برائے طلباء) 274 جلد سوم ایسے مولوی یوں تو زمین آسمان کے قلابے ملائیں گے لیکن جب ان کے سامنے کوئی آیت پیش کر کے کہا جائے گا کہ اس کا مطلب بتاؤ تو کہیں گے اس کے لئے تغییر دیکھنی چاہئے۔مطلب یہ کہ اس نے قرآن پڑھا ہوا ہی نہ ہوگا اور قرآن کے معنی نہیں آتے ہوں گے۔کسی نے اپنے شوق سے پڑھ لیا تو پڑھ لیا ورنہ ان مدارس میں پڑھایا نہیں جاتا۔غرض یہ مدارس تبلیغی نہ تھے بلکہ دنیوی کالج تھے۔جیسے گورنمنٹ کالج، خالصہ کالج ڈی۔اے۔وی کالج ہیں۔ان مدارس میں پڑھنے والوں کو ملازمتیں ملتی تھیں۔وہ دنیوی کاروبار میں اس تعلیم سے فائدہ اٹھاتے تھے۔وہ مدرسہ جو تبلیغ اسلام کی خاطر اور اشاعت اسلام کو مد نظر رکھ کر قائم کیا گیا اور جس کی غرض وَلتَكُن مِنكُمُ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ الخ کی مصداق جماعت پیدا کرنا تھی وہ یہی مدرسہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قائم کیا اور جو ترقی کر کے اب جامعہ بن رہا ہے۔عربی مدارس میں بے شک حدیث پڑھائی جاتی تھی مگر اس لئے نہیں کہ وَلَتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ والى جماعت پیدا ہو۔بلکہ اسے ایک علم سمجھا جاتا اور اس لئے پڑھایا جاتا کہ اس سے مفتی اور قاضی بننے میں مددمل سکتی تھی اور نوکری مل جاتی تھی۔اسی طرح فقہ پڑھاتے مگر اس لئے نہیں کہ غیر مسلموں کو مسلمان بنا کر انہیں اسلامی امور سمجھائیں گے بلکہ اس لئے کہ مفتی اور قاضی نہ بن سکیں گے اگر یہ نہ پڑھیں گے۔یہ ایسی ہی تعلیم تھی جیسی آجکل لاء (LAW) کالج کی ہے۔اس کی غرض یہ نہیں کہ قانون کی آگے تبلیغ کی جائے گی بلکہ یہ ہے کہ ملازمت حاصل ہو۔پس وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ کو مسلمانوں نے کئی سو سال سے بھلا رکھا تھا۔رسول کریم ﷺ نے ایسا سکول جاری کیا تھا اور آپ اس میں پڑھاتے رہے۔بعد میں چند صحابہؓ نے اسے جاری رکھا۔جب وہ قوم ختم ہو گئی تو وہ مدرسہ بھی ختم ہو گیا۔پھر یہ دنیوی علوم بن گئے یعنی محض دنیوی فوائد کے لئے پڑھے جانے لگے۔اشاعت اسلام ان کے پڑھنے کی غرض نہ رہی۔اب اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ فضیلت اور رتبہ دیا اور ہمیں اس پر فخر کرنا چاہئے کہ تیرہ سو سال کے بعد ہمیں اس آیت