زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 252

زریں ہدایات (برائے طلباء) 252 جلد سوم جلسہ تقسیم انعامات احمد یہ ٹورنامنٹ احمد یہ ٹورنامنٹ کے جلسہ تقسیم انعامات کے موقع پر حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل نصائح فرمائیں:۔در حقیقت جب تک طاقتوں کا صحیح مقابلہ نہ ہو اُس وقت تک انسان کو اس امر کا پتہ نہیں لگتا کہ اس کی قوت یا بنی نوع انسان کی قوت انسان کو ترقی کی کس حد تک پہنچا سکتی ہے۔انسان دوسروں کے کاموں کو دیکھ کر ہی اندازہ لگا سکتا ہے کہ میرے اندر کس حد تک ترقی کرنے کی طاقت ہے ورنہ بسا اوقات وہ سمجھ لیتا ہے کہ جس حد تک میں کامل ہو گیا ہوں اس سے بڑھ کر کمال نہیں حاصل ہو سکتا۔اس وجہ سے وہ اپنی طاقتوں سے کما حقہ فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔دنیا میں جو الفاظ کسی لغت والے بولتے اور لکھتے ہیں انسان کو وہی معلوم نہیں ہوتے بلکہ مادری طور پر اور بھی بہت سے الفاظ جانتا ہے مگر جب علم ادب کے ماہروں کی کتب پڑھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہی الفاظ جو وہ جانتا ہوتا ہے انہیں کس موقع اور محل پر کس طرح استعمال کرنا چاہئے۔اس طرح وہ اپنی زبان میں ترقی کرتا جاتا ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ غیر زبان والے ہی دوسری زبان پڑھتے ہیں۔یعنی یہ نہیں کہ انگریزی زبان ہندوستانی ہی پڑھتے ہیں بلکہ خود انگلستان کے لوگ بھی انگریزی پڑھتے اور سکھتے ہیں۔اسی طرح فرانسیسی اپنی زبان پڑھتے ہیں اور دیگر ممالک کے لوگوں کا بھی یہی حال ہے۔صرف ایک بد قسمت زبان اردو ہے جس کے متعلق ہندوستانی سمجھتے ہیں کہ اس کے سیکھنے کی ضرورت نہیں یہ ہم یونہی سیکھ سکتے ہیں۔مگر دوسری زبانوں کے متعلق یہ خیال نہیں کیا جاتا۔وہ لوگ علمی طور پر اپنی زبانوں کو سیکھتے اور ان میں ترقی کرتے ہیں۔انگریز شیکسپیئر ، سکاٹ، ملٹن اور جانسن کی کتب اس لئے نہیں پڑھتے کہ ان میں جو الفاظ درج ہوتے