زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 250

زریں ہدایات (برائے طلباء) 250 جلد سوم طالب علم نہیں ہوتے۔اگر کسی کی علمیت تم سے زیادہ ہے تو کئی ایک ایسے بھی تو ملیں گے جو تم سے کم علم رکھتے ہیں اور تم سے بہت کم اسلامی اور مذہبی باتوں کو جانتے ہیں۔پس تم اس سے مت گھبراؤ اور اس بات سے تبلیغ کرنا مت چھوڑو کہ تمہارا علم کم ہے۔پھر تبلیغ کے لئے کسی لمبے چوڑے علم کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔اور پھر تم کو تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے علم سے حصہ دیا گیا ہے۔تم اگر تبلیغ کرو گے تو تمہیں خود ہی معلوم ہو جائے گا کہ کس قدر وہ طالب علم ہیں جو اپنے مذہب سے ناواقف ہیں اور اپنے مذہب کے ہلکے ہلکے اور موٹے موٹے حکم بھی نہیں جانتے۔اور اس بات کے محتاج ہیں کہ تم انہیں یہ باتیں بتلاؤ۔پس تم یہ مت خیال کرو کہ تم کو کچھ نہیں آتا تمہیں سب کچھ آتا ہے۔میں ایک دفعہ اپنی بیوی کے ایک رشتہ دار بھائی کو تبلیغ کر رہا تھا۔اب تو وہ گریجوایٹ ہے اُس وقت وہ سکول میں پڑھتا تھا۔میں نے اسے اسلام کی باتیں بتائیں۔وہ حیران ہو گیا۔پھر میں نے اسے کہا اسلام میں ہے کہ آنحضرت علیہ کے بعد ایک نبی آئے گا کیا تمہیں اس کی خبر ہے؟ کیا تم نے اس کے متعلق کبھی کچھ سنا ہے؟ وہ ہنس پڑا اور کہنے لگا کہ میں نے تو کبھی یہ باتیں نہیں سنیں اور نہ ہی میں نے کبھی سنا کہ آنحضرت عملے کے بعد کوئی نبی آئے گا۔پھر میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارے علماء اس کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ کیا وہ بھی کسی آنے والے کا پتہ بتاتے ہیں یا نہیں؟ کہنے لگا وہ تو یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام آئیں گے۔اس پر میں نے اسے بتایا کہ وہ کس طرح آئیں گے۔اس کے بعد جب وہ سکول گیا تو اس نے وہاں کے ایک مولوی سے یہ سب کچھ بیان کر کے وہی پوچھا جو میں نے اس سے پوچھا تھا۔اس کا جواب تو مولوی نے کچھ نہ دیا مگر اس کو سخت ست کہا۔وہ بیچارہ سخت ڈرا اور اس نے مجھ سے بیان کیا کہ یہ مولوی اب میرے باپ کو کہہ دے گا۔لیکن یہ بات اس سے ضرور ہوئی کہ اس پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ پھر اس نے کبھی کسی مولوی سے کوئی ایسی بات نہ پوچھی۔اور ان مسائل سے متعلق بالخصوص کسی مولوی سے کچھ دریافت نہ کیا۔پس یہ نہ سمجھو کہ ہر ایک تم سے زیادہ علم دار ہے۔کالجوں میں تو کئی ایسے ملیں گے جو