زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 249
زریں ہدایات (برائے طلباء) 249 جلد سوم تبلیغ ایک ایسی ضروری شے ہے کہ کسی وقت بھی بھلائی نہیں چاہئے۔میں اس بات کا افسوس کے ساتھ اظہار کرتا ہوں کہ تم میں سے بہت سے نو جوان یہ سمجھ رہے ہیں کہ تبلیغ کا وقت کالج لائف کے بعد آئے گا اور اس وقت ہمیں طالب علمی کے فرائض ادا کرنے چاہئیں اور جب ان سے فراغت ہوگی تو تبلیغ کریں گے۔لیکن یہ درست نہیں۔تمہیں کیا معلوم ہے کہ تمہاری اس وقت کی کہی ہوئی ایک بات کسی اور بندہ خدا کے لئے دلیل راہ بن سکتی ہے۔تبلیغ اگر اچھی چیز ہے جیسے کہ وہ فی الواقعہ اچھی چیز ہے تو اسے آج ہی کرنا چاہئے اور کسی آئندہ زمانہ پر اسے اٹھا نہ رکھنا چاہئے۔میں نے کل بھی کہا تھا کہ اچھے کام اچھے کام نہیں ہو سکتے جب تک کہ اسی وقت نہ کئے جائیں۔پس اچھے کام اسی وقت کئے جانے چاہئیں۔پھر یہ بھی نہیں کہ ایک دفعہ کسی کو تبلیغ کر دی اور پھر چپ ہور ہے۔نہیں! بلکہ اسے مسلسل اور متواتر کرتے رہنا چاہئے۔اور سمجھ لینا چاہئے کہ جس طرح نماز پڑھنا ہمارے لئے فرض ہے، جس طرح روزے رکھنا ہمارے لئے فرض ہے، جس طرح دوسرے احکام کی پابندی ہمارے لئے فرض ہے اسی طرح تبلیغ بھی ہمارا فرض ہے۔اور جس طرح وہ فرض ایک دفعہ ادا کر دینے سے چھٹ نہیں جاتے اسی طرح یہ فرض بھی ایک دفعہ کرنے سے چھٹ نہیں سکتا۔کیا تم ایک دفعہ روٹی کھا کر پھر کھانا چھوڑ دیتے ہو؟ یقینا نہیں۔تو جب تم دوسرے کاموں کو متواتر کئے جاتے ہو تو اس کی طرف سے غفلت کر جانا یقیناً کامیابی کا ذریعہ نہیں۔جس طرح ایک کام اگر تھوڑی دیر کرنے کے بعد چھوڑ دیا جائے تو وہ عمدہ بات نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کے نتائج خوشگوار نکلتے ہیں اسی طرح تبلیغ کا معاملہ ہے کہ اگر ایک یا دو دفعہ یا ایک عرصہ تک کر کے چھوڑ دی جائے تو یہ کوئی عمدہ کام نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سے کوئی مفید نتیجہ نکل سکتا ہے۔پس تبلیغ تمہارے اہم فرضوں میں سے ایک فرض ہے اور اگر یہ فی الواقعہ تمہاری ڈیوٹی ہے جیسا کہ فی الواقعہ تمہاری ڈیوٹی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اسے چھوڑ دیا جائے یا اگر کیا جائے تو غیر مسلسل طریق پر کیا جائے۔تم میں سے بعض یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کوئی علم تو ہے نہیں ہم کیونکر تبلیغ کر سکتے ہیں۔اس لیے میں تمہیں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ مت خیال کرو کہ تم کوعلم نہیں۔کالجوں میں یکساں حالت کے