زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 240
زریں ہدایات (برائے طلباء) 240 جلد سوم جدائی کا فلسفہ تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کی طرف سے ہویں جماعت کے طلباء کو دعوت چائے دی گئی۔اس موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل خطاب فرمایا:۔دنیا میں جو تکلیف دہ چیزیں ہیں ان کا خلاصہ ایک ہی لفظ میں آجاتا ہے اور وہ لفظ جدائی ہے۔درحقیقت تمام غم، تمام تکلیفیں، تمام فکریں ، تمام رنج اور تمام دکھ صرف جدائی کے خلاف اظہار نفرت کا ایک نظارہ اور ایک نشان ہوتے ہیں۔دردیں اور بیماریاں کیا ہیں؟ یہی کہ جسم کے بعض حصوں کی طاقت کے ضائع ہونے کا نام ہے۔غم ،فکر اور رنج کس لئے ہوتے ہیں؟ اس لئے کہ مال یا جان یا عزت یا کوئی اور پیاری چیز انسان کے ہاتھ سے جاتی رہتی ہے۔پس تمام تکلیفیں اور رنج سب جدائی کے نتیجہ میں ہوتے ہیں۔اسی طرح روحانی غم اور فکریں جو ہیں وہ بھی جدائی کے نتیجہ میں ہوتی ہیں۔روحانی مردنی اور روحانی بیماری کیا ہے؟ یہی کہ اللہ تعالیٰ۔جدائی۔گناہ کیا ہے؟ وہی چیز جو انسان کو خدا تعالیٰ سے دور کر دے۔پس ہر دکھ اور تکلیف خواہ وہ روحانی ہو یا جسمانی جدائی کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اور ایک لفظ جو ہر قسم کے غموں اور دکھوں کو اپنے اندر شامل رکھتا ہے وہ جدائی ہے۔جب ایک چیز سے جدائی ہوتی ہے تو طبعا انسان غم محسوس کرتا اور سنگ دل سے سنگ دل انسان کے اندر بھی اس موقع پر ایسی رو پیدا ہو جاتی ہے کہ اگر وہ اسے غم کی حد تک نہیں پاتا تو کم از کم اپنے قلب میں بے چینی اور اضطراب ضرور محسوس کرتا ہے۔بسا اوقات لوگ بعض چیزوں کو چھوڑتے ہوئے کہتے ہیں ہمیں ان سے کوئی غم نہیں ہوا مگر انہیں بھی بے چینی سی ضرور ہوتی ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ انہیں غم نہیں ہوا بلکہ یہ ہیں کہ غم کی