زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 239

زریں ہدایات (برائے طلباء) 239 جلد سوم کے ہوتی ہیں۔پھر جن ملکوں میں ابھی تک یہ باتیں پیدا نہیں ہوئی تھیں ان میں سے بعض نے یہ باتیں پیدا کر لی ہیں۔چنانچہ ہر امر میں انہوں نے خصوصیات پیدا کیں۔یہاں تک کہ فن تقریر میں بھی اس امتیاز کو پیدا کیا۔لیکن ہندوستان کی تقریر کے فن کا کوئی معیارا بھی تک قائم نہیں ہوا۔جو جس طرح چاہتا ہے تقریر کر لیتا ہے اور اس میں ہی ان کو مزا بھی آتا ہے۔اور اس کی وجہ بھی ہے کہ یہاں مختلف رسم و رواج رکھنے والی قو میں آباد ہیں۔مگر دوسری قوموں میں ایک نظام تقریر مقرر ہو گیا ہے۔اور میں خوش ہوں کہ شیخ صاحب نے اس نظام تقریر کوسیکھا اور اپنی ہر تقریر میں اسے مد نظر بھی رکھا اور اپنا سارا کلام مصریوں کی طرح کیا۔پس یہ ان کی کوشش قابل تحسین ہے۔شیخ صاحب نے مصری انداز میں تقریر کی ہے۔یہ طریق بتاتا ہے کہ ان لوگوں کو کیریکٹر بنانے کا اگر خیال ہے تو صرف بولنے میں اور اس کیریکٹر کا شیخ صاحب نے خوب مطالعہ کیا ہے۔مجھے آج بولنا نہیں چاہئے تھا کیونکہ ڈاکٹروں نے مجھے زیادہ بولنے سے منع کیا ہوا ہے اور ابھی میں نے خطبہ جمعہ بھی بیان کرنا ہے۔اس لئے میں یہیں بس کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ جو باتیں میں نے بیان کی ہیں وہ ضروری ہیں۔پس میں اس دعا پر اپنی تقریر کوختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے طالب علموں کو اس مقصد کے پورا کرنے والا بنائے کہ جس مقصد کے لئے یہ دینی تعلیم انہوں نے پانی شروع کی ہے۔اور انہیں خدا ترقی عطا فرمائے اور ان کے علموں اور ان کی زبانوں میں برکت ڈالے۔اور انہیں ہر اس بات کے حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو دین کی خدمت کے لئے ان کی محمد ہوسکتی ہے۔“ ( الفضل 7 مئی 1926ء) :1 مسلم كتاب الجهاد باب غزوة حنين صفحہ 790-791 حدیث نمبر 4615 تا 4617 مطبوعہ ریاض 2000 ء الطبعة الثانية 2 سیرت ابن هشام جلد 2 صفحه 1240 مطبوعہ دمشق 2005 الطبعة الأولى