زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 237
زریں ہدایات (برائے طلباء) 237 جلد سوم کے ساتھ رہ گیا۔وہ دراصل وہاں کا باشندہ نہیں تھا بلکہ افغانستان سے وہاں جا بسا تھا۔اگر افغانی کا لفظ اس کے نام کے ساتھ قائم نہ رہ گیا ہوتا تو ممکن تھا کہ لوگ اسے مصری سمجھتے۔مگر مصریوں کی قسمت سے افغانی کا لفظ اس کے نام کے ساتھ باقی رہ گیا۔ساری تحریکیں جو کبھی کبھی اس ملک میں اٹھتی رہی ہیں وہ جمال الدین افغانی کی ہی ایجاد ہیں۔مفتی عبدہ اس کا شاگر د تھا۔اس کے بعد اس نے ان کو قائم کیا۔اور اس لحاظ سے کہ ساری تحریکیں جمال الدین افغانی کی ہی ایجاد ہیں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ سبھی ہندوستان ہی سے گئی ہیں اور مصر سے نہیں اٹھیں۔غرض ان تحریکوں کے موجد جمال الدین افغانی ہی ہیں۔غرض ان تحریکوں کے موجد جمال الدین افغانی کا مولد یہی ملک ہے۔اور اگر اس قسم کی تحریکوں کی وجہ سے ہی کسی ملک کو گہوارہ علوم وفنون کہا جاتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان تحریکوں کی بناء پر مصر کو گہوارہ علوم وفنون کہا جائے۔کیونکہ یہ سب تحریکیں مصر کے کسی آدمی کی طرف سے پیدا نہیں کی گئیں بلکہ ایک دوسرے ملک کے باشندے نے ان کو پیدا کیا۔پس اگر انہیں تحریکوں سے ہی اسے گہوارہ علوم وفنون کہنا ہے تو کیوں نہ افغانستان کو گہوارہ علوم وفنون کہا جائے کہ جہاں کا جمال الدین افغانی رہنے والا تھا۔پس مصر میں اگر کسی چیز کے لئے ہم طلباء کو بھیج سکتے ہیں تو یہ ہے کہ وہاں کے لوگ عربی زبان بول سکتے ہیں اور جن میں رہ کر یہ عربی بولنا سیکھ سکتے ہیں۔کیونکہ ارد گرد عربی بولنے والے ہی ہوتے ہیں۔وہاں اگر کچھ ہو سکتا ہے تو عربی بولنے کی مشق ہو سکتی ہے۔اعراب کی مشق اپنے علم سے اور بولنے کی مشق اُن سے۔پس زیادہ سے زیادہ اگر کسی چیز کے لئے ہم طلباء کو وہاں بھیج سکتے ہیں تو عربی بولنا سیکھنے کے لئے نہ کہ اس لئے کہ وہاں کوئی ایسے علوم وفنون جاری ہیں جو ہندوستان میں نہیں یا جو ہندوستان سے بڑھ کر ہیں۔یاد رکھو ہندوستان سے بڑھ کر وہاں کچھ بھی نہیں بلکہ وہاں جو کچھ ہے وہ ہندوستان سے اقسام اور کیفیات ہر دو میں بدرجہا کم ہے۔بے شک اب وہاں تحریکیں شروع ہوئی ہیں اور اس لحاظ سے ایک حد تک وہ ان کا گہوارہ کہلا سکتا ہے لیکن اس لحاظ سے کہ وہ ہم سے علم وفنون میں بڑھے ہوئے ہیں اور ہم ان سے کچھ سیکھ سکتے ہیں وہ ہر گز کسی بات کا گہوارہ کہلانے کا مستحق نہیں۔رہی زبان تو تم کتنا ہنسو گے اگر