زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 236
زریں ہدایات (برائے طلباء) 236 جلد سوم پڑھا ہے کہ اس قسم کا بھی ایک آپریشن کیا جاتا ہے۔میں نے اسے کہا کہ یہ تو ایک معمولی سا آپریشن ہے اور ہمارے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اس سے واقف ہیں۔جب اس نے یہ سنا تو کہنے لگا کہ مہربانی کر کے وہ آپریشن مجھے کر کے دکھا ئیں۔مصر میں یا شام میں جو تعلیم ہے وہ بالکل ادنی ہے اور علوم جو وہاں جاری ہیں ان میں وہ ہندوستان سے بہت پیچھے ہیں۔علم الابدان ہو یا علم الادیان ہر دو میں وہ ہندوستان کی برابری نہیں کر سکتے۔فلسفہ خیال تو مطلقاً ہند جیسا نہیں۔ہندوستان میں ٹیگور اور اقبال جیسے آدمی بھی ہیں جن کی تحریریں یورپ جیسے ملکوں میں ترجمہ کی جاتی ہیں اور بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ان کے بالمقابل کو نسا مصری ہے جس کا فلسفہ یورپ کی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہو اور وہ مقبول ہوا ہو۔ٹیگور اور اقبال کے فلسفہ کے تو متعدد ترجمے وہاں ہو چکے ہیں۔یہاں تک کہ جرمنی میں تو ہر جرمن کے ہاتھ میں اس کے کلام کا جرمن ترجمہ نظر آتا ہے۔ہمارے ایک دوست نے جو جرمنی سے ہو آئے ہیں بیان کیا کہ جرمنی میں کیا بچے اور کیا بوڑھے، کیا مرد اور کیا عورت ٹیگور کی کوئی نہ کوئی کتاب ہر موقع پر اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔اور یہ بات جرمن لوگوں کے فیشن میں داخل ہوگئی ہے کہ وہ اس کو ہر وقت اپنے ساتھ رکھیں۔مگر کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ کون وہ مصری ہے جس کی کسی کتاب کا ترجمہ اس قدر مقبول ہوا ہو اور جس کے خیالات کی ان ممالک میں اس قدر عزت کی گئی ہو۔مصر ایک اسلامی ملک ہے لیکن باوجود اسلامی ملک ہونے کے کوئی مذہبی تحریک وہاں۔پیدا نہیں ہوتی۔جتنی تحریکیں مذہبی رنگ میں پیدا ہوتی ہیں وہ ہندوستان میں ہی ہوتی ہیں لیکن مصر سے کبھی کوئی تحریک پیدا نہیں ہوئی۔اور اگر کبھی کوئی ہوئی بھی تو وہ وہیں مرگئی اور پھیلی نہیں۔ނ پھر باوجوداس بات کے کہ نہ وہاں علوم و فنون کا دور دورہ ہے اور نہ باوجود اسلامی ملک ہونے کے کوئی مذہبی تحریک وہاں سے پیدا ہوتی ہے اسے اگر علوم وفنون کا گہوارہ کہا جائے تو حماقت ہے۔جمال الدین افغانی نے مصر میں ایک روح پیدا کی اور جس کے ساتھ مذہبی رنگ بھی تھا۔لیکن وہ اس ملک کا باشندہ نہیں تھا بلکہ اس ملک میں جا ٹھہرا تھا۔قدرت سے افغانی کا لفظ اس