زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 238
زریں ہدایات (برائے طلباء) 238 جلد سوم تمہیں یہ معلوم ہو جائے کہ یہ لوگ تو ابھی اسے سیکھ ہی رہے ہیں۔بے شک وہ عربی بول سکتے ہیں لیکن وہی عربی جو وہاں مروج ہے لیکن وہ عربی جو علوم وفنون کی حاوی ہو سکتی ہے یا کسی زبان کے ادبی کمال تک پہنچی ہوتی ہے وہ ابھی ان کے پاس نہیں۔اسے وہ سیکھ رہے ہیں۔تم اگر یہ سنو کہ دہلی کے لوگ اردو سیکھ رہے ہیں تو تمہیں نفسی پیدا ہوگی۔یہی حال مصریوں کا ہے۔میں جب 1912ء میں وہاں گیا تو ان کی بولی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔لیکن اب ان کی بولی میں فرق ہے۔اب سمجھ میں آجاتی ہے۔کیونکہ اب وہ اسے سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ روانی کے ساتھ بول سکتے ہیں۔اور اسی بات کے سیکھنے کے لئے ہم بعض لڑکوں کو وہاں بھیجتے بھی ہیں۔ہمارا اور ان کا مقابلہ اپنی اپنی زبانوں میں ہو سکتا ہے۔جس طرح ہم اپنی زبان کو صاف اور صحیح اور درست بول سکتے ہیں مصری یا شامی نہیں بول سکتے۔ہر ملک کی زبان ہوتی ہے اور یہ قدرتی بات ہے کہ اس ملک کا ہر فرد بشر اس سے واقف ہو۔لیکن باوجود اس کے کہ کسی ملک کے باشندوں کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک کی زبان سے واقف ہوں پھر بھی اگر کوئی اس سے واقف نہ ہو اور اس کو صحیح طور پر استعمال نہ کرے تو وہ ہر گز ہرگز اس ملک کے باشندوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے جو اپنے ملک کی زبان کو بالکل صحیح استعمال کرتے ہوں۔ہندوستان اور مصر میں یہ مابہ الامتیاز ہے کہ مصر کے لوگ اپنے ملک کی زبان صحیح نہیں بولتے اور ہندوستان کے لوگ اپنے ملک کی زبان کو بالکل صحیح استعمال کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کی زبان سند ہے اور ان کی نہیں۔آخر میں میں اس امر پر بھی خوشی کا اظہار کرتا ہوں کہ شیخ محمود احمد صاحب جس غرض کے لئے مصر گئے تھے اس کو انہوں نے اچھی طرح پورا کیا ہے۔ان کی غرض یہی تھی کہ وہ ان میں رہ کر زبان کو سیکھیں۔سو انہوں نے ان کے ڈھب میں بولنا سیکھا ہے اور میں دیکھ رہا ہوں انہوں نے خطبوں میں مصریوں کے طریق خطبہ کا ہر وقت لحاظ رکھا۔بعض ملکوں کے کیریکٹر ہوتے ہیں اور ان کی کچھ خصوصیات ہوتی ہیں جو دوسروں میں اور ان میں امتیاز پیدا کرتی ہیں اور جو بطور معیار