زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 232
زریں ہدایات (برائے طلباء) 232 جلد سوم صرف لشکر کے بھاگنے میں ہے۔اور اسے بھی اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ بھی کوئی برابری نہیں کیونکہ ان کی کیفیات میں بڑا فرق موجود ہے۔اور پھر یہ فرق اس واقعہ سے اور بھی صاف طور پر ظاہر ہو جاتا ہے کہ وہاں اس کی فوج بھا گئی ہے تو جرنیل پیچھے سے تلوار میں مار مار کر روکتے ہیں مگر وہ رُکتے نہیں۔اور نپولین وہاں کھڑا ہے اور آخر فیصلہ کرتا ہے کہ مجھے اکیلے کو آگے بڑھنا چاہئے۔وہ بڑھتا بھی ہے لیکن اس کے جرنیل اس کو روک لیتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کو بھی صحابہ روکتے ہیں مگر وہ کہتے ہیں ہٹ جاؤ مجھے آگے جانے دو۔تو صحابہ ٹہٹ جاتے ہیں۔لیکن جب نپولین کہتا ہے کہ ہٹ جاؤ مجھے آگے بڑھنے دو تو اس کے جرنیل کہتے ہیں کہ اسے پکڑ لو اور ہر گز آگے نہ بڑھنے دو۔اس کا دماغ ٹھیک نہیں رہا۔آگے بڑھ کے مفت جان گنوا لے گا۔وہاں تو یہ حال تھا کہ تلواریں مار کر لوگوں کو روکا جاتا ہے اور وہ رکتے نہیں۔اور یہاں ایک آواز جاتی ہے اور آواز بھی وہ آواز جو انسانی ہے اور جو ایک ایسے مقام سے دی گئی ہے کہ جن کو پہنچانی ہے وہ اس حد سے کہیں دور نکل چکے ہیں کہ جہاں تک انسانی آواز پہنچ سکتی ہے۔اور پھر اس آواز کا اثر کیا ہوتا ہے؟ ایک صحابی کہتے ہیں ہم مُردہ تھے اور جس وقت یہ آواز ہمارے کانوں میں پہنچی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسرافیل نے صور پھونکا ہے۔ہمارے قلوب کے اندر ایک رو پیدا ہوگئی اور ایک ایسی لہر اور ولولہ ہمارے اندر اٹھا اور اس کا ایسا اثر ہوا کہ ہم دنیا کو بالکل بھول گئے۔ہمیں ہر طرف سے یہ آواز سنائی دیتی کہ ادھر آؤ ! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے۔ادھر آؤ ! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے۔چنانچہ وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم اُسی وقت واپس مڑے اور اس مڑنے کی کوشش کرتے ہوئے بعض دفعہ ہماری سواریوں کا منہ ان کی پیٹھ سے لگ لگ جاتا۔اور اگر کوئی سواری نہ مڑتی یا اسے مڑنے میں دیر لگ جاتی تو تلواریں مار مار کر ان کی گردنیں اڑا دیتے۔اور لبیک یا رسول اللہ لبیک کہتے ہوئے بھاگے آتے۔اور تھوڑے ہی عرصہ میں سارا لشکر جمع ہو گیا۔ان حالات کے ماتحت یہ ہرگز ما نانہیں جاسکتا کہ حنین کے واقعہ کی مثال وائر لو یا کسی اور جنگ میں نظر آتی ہے۔یہ آواز کیا تھی۔بے شک یہ عباس کے منہ سے نکلی مگر اس کے پیچھے محمد رسول اللہ علے کا دل تھا جو کہہ رہا تھا مجھے یہاں کھڑے رہنے کی کیا ضرورت تھی بجز اس کے کہ تمہارے لئے میدان