زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 233
زریں ہدایات (برائے طلباء) 233 جلد سوم صاف کروں سوائے اس کے کہ تمہارے لئے خدا کے فضل کے دروازے کھولوں۔پس وہ محبت بھرا دل تھا جو اس آواز کے پیچھے تھا اور اس میں اک ایسا احساس تھا کہ جو رسیوں کی طرح پھیل گیا اور ان لوگوں کو باندھ کر لے آیا۔پس احساسات کے پیچھے جب خاص اثرات ہوتے ہیں تو اُس وقت جواثر ہوتا ہے وہ خالی نہیں جاتا۔ہمارے مبلغین کے لئے ضروری ہے کہ وہ احساسات کے ساتھ الفاظ کو بھی بھیجا کریں تاکہ ان کا اثر ہو کیونکہ جب تک احساسات کے ساتھ الفاظ نہ نکالے جائیں اثر نہیں کرتے۔پھر اس کے ساتھ ساتھ قلوب میں ہمدردی اور غمخواری بھی پیدا کی جائے اور اس کے ساتھ پر احساس آواز نکالی جائے پھر وہ اثر ہوتا ہے جوزائل نہیں ہوتا۔احساسات ایک بُو ہے جو خون سے آتی ہے۔جو دل کسی کے لئے خون ہو جاتا ہے وہ یہ ہے جو ہوا سے اڑتی ہے اور دوسرے کے ناک میں پڑتی ہے پھر وہ جوش پیدا کر دیتی ہے اور تمام پرانی عادتیں اور تمام پرانے خیال بدل ڈالتی ہے اور ان کی جگہ نئے جذبات اور نئے ارادے اور نئے خیال پیدا کر دیتی ہے۔پس ہمارے مبلغین کو خصوصیت کے ساتھ اپنی آواز کے ساتھ احساس پیدا کرنا چاہئے۔ان کی کوئی آواز نہ ہو جو بغیر احساس کے ہو اور جس کے ساتھ ہمدردی اور سچی غمخواری نہ ہو۔اس کے بعد میں ایڈریس کے ایک جملے کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو اصلاح کے قابل ہے جو یہ ہے کہ مصر کے متعلق جو اس ایڈریس میں یہ کہا گیا ہے کہ ”مصر جو علوم وفنون کا گہوارہ ہے یہ غلط خیال ہے۔اور یہ بالکل غلط ہے جو میرے کان میں پڑ رہی ہے کہ مدرسہ احمدیہ کے اکثر طلباء کے دل میں یہ ہے کہ ہم اس لئے مصر اپنی تعلیم کے لئے جائیں کہ وہ علوم وفنون کا گہوارہ ہے۔چنانچہ مجھے ایک رقعہ بھی لکھا گیا ہے جس میں یہی بات کہی گئی ہے لیکن میں انہیں بتلاتا ہوں کہ مصر علوم وفنون کا گہوارہ نہیں۔کیا صرف اپنی زبان بول لینے سے کوئی ملک یا کوئی شہر یا کوئی قصبہ علوم وفنون کا گہوارہ ہو سکتا ہے جو مصر کے متعلق صرف اس لئے کہ وہ اپنی زبان جو عربی ہے بول سکتا ہے یہ کہا جائے کہ وہ علوم وفنون کا گہوارہ ہے۔اگر یہ بھینی ، اگر یہ منگل ، اگر یہ کھارہ وغیرہ گاؤں جو قادیان