زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 231
زریں ہدایات (برائے طلباء) 231 جلد سوم دبانا شروع کر دیا۔بلکہ وہ تو کہتے تھے کہ اب مسلمان گئے۔چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کو کہا کہ اب تم توبہ کر لو۔بعض اصحاب بیان کرتے ہیں کہ ہم نے کوشش کی کہ مڑیں مگر گھوڑے اور اونٹ صلى مڑتے نہیں تھے۔اُس وقت چاروں طرف سے تیر پڑ رہے تھے اور آنحضرت ﷺ اکیلے ہی دشمن کی طرف بڑھے۔ان بارہ صحابیوں نے جو آپ کے ارد گرد رہ گئے تھے آپ کو آگے جانے سے روکا اور عرض کی یا رسول اللہ ! آگے جانے کا موقع نہیں۔آگے جانا جان بوجھ کر جان کو گنوانا ہے مگر آپ نے کہا أنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِب ! اور آگے بڑھ گئے۔اُس وقت جہاں تک انسانی آواز جاسکتی تمام صحابہ اس حد سے آگے نکل چکے تھے۔لیکن آنحضرت ﷺ نے حضرت عباس سے کہا کہ انہیں پکارو کہ انصار! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے۔اب یہ آواز ہر ایک سپاہی کے کان میں پہنچی۔اور وہ لوگ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کسی نے ہمارے قریب کھڑے ہو کر یہ کہا کہ اے انصار! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے۔میں نے اس واقعہ میں دیکھا کہ سارا لشکر بھاگ چکا تھا لیکن اس آواز پر وہ پھر لوٹا۔اس کی مثال اور کسی واقعہ میں نظر نہیں آتی۔وائرلو کی جنگ میں ایک واقعہ ایسا نظر آتا ہے جو بظاہر اس کے برابر معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں وہ اس کے برابر نہیں۔بے شک اس جنگ میں بھی لشکر بھاگا مگر وہاں ایسا نہ ہوا۔اس جنگ کے مشہور مشہور جرنیل کہتے ہیں کہ ہم تلواریں مارتے تھے اگر کوئی سپاہی پیچھے مڑتا تھا لیکن باوجود اس کے کوئی نہ رک سکا۔آخر فوج کو پیچھے بھاگتے دیکھ کر نپولین آگے بڑھا کہ جان دے دے۔لیکن اس کے کمانڈروں نے اسے روکا۔لیکن حسنین کی جنگ میں جب سپاہی بھاگتے ہیں تو آنحضرت یہ آگے بڑھتے ہیں۔صحابہ روکتے ہیں مگر آپ رکتے نہیں۔اور انَا النَّبِيُّ لَا كَذِبِ أَنَابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِب کہتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔اگر تھوڑی دیر کے لئے یہ مان بھی لیا جائے کہ ان دونوں لڑائیوں میں برابری ہے تو وہ