زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 229
زریں ہدایات (برائے طلباء) 229 جلد سوم کھڑے ہوئے تھے۔وہ وہی حال تھے جن سے عرب نا آشنا تھا اور جو مکہ کے لوگوں کے خیال اور حال دونوں سے اُلٹ تھے۔اور صرف یہی نہیں بلکہ ان کے مفاد کے بھی خلاف تھے۔پھر جو باتیں آنحضرت سے لے کر اٹھے وہ بھی سراسر ان لوگوں کے مخالف تھیں۔آنحضرت علی وہی باتیں تو کہتے تھے جو آج ہم کہہ رہے ہیں۔اور ان کے ہاتھ میں بھی شروع میں سوائے قرآن کریم کے کوئی تلوار نہ تھی۔اور وہاں بھی آپ کے برخلاف ویسی ہی آواز اُٹھتی تھی جیسے آجکل مولویوں کی۔لیکن کیا چیز تھی کہ ان سب کو کاٹتی چلی جاتی تھی اور آنحضرت ﷺ کا قدم آگے ہی آگے اٹھتا تھا۔وہ یہی تھی کہ آپ نے زبردست احساسات اور روحانی جذبات کی رو چلائی۔وہ رو جو سانپ کی طرح آدمی کے لپٹ جاتی تھی اور جو تریاق کی پچکاری کرتی۔مُردنی سے نہیں بلکہ محبت کی اور حیات سے متاثر ہو کر۔اور یہی وجہ ہے کہ آپ نے زبان سے وہ کام کر لیا جو کام تلوار سے لوگ نہ کر سکے۔اثر جو ایک ایسی آواز سے پیدا ہوتا ہے جس کے پیچھے یقین احساس اور جذبہ ہوتا ہے۔عام زندگی میں ہر ایک شخص اس کی کیفیات کو محسوس نہیں کر سکتا۔لیکن یہی بات بعض دفعہ جب نمایاں طور پر زندگی میں آتی ہے تو سب اس کو دیکھتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ایک ایسا واقعہ ہے جس کی دنیاوی تاریخ میں کوئی مثال نہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ نپولین بڑا فاتح تھا، تیمور بڑا فاتح تھا، سکندر بڑا فاتح تھا لیکن میں نے ایسا واقعہ ان کی زندگیوں میں بھی نہیں دیکھا جو جنگ حنین میں ایک با احساس اور پر جذبات آواز کا نظر آتا ہے۔کسی بڑے سے بڑے فاتح کی زندگی میں اگر کوئی ایسی مثال مل سکتی ہے تو وہ صرف جذبات اور احساسات تک ہی محدود ہے کہ ان کی وجہ سے وہ اثر پیدا ہوا۔لیکن آنحضرت ﷺ کی آواز میں جنگ حنین کے وقت بالخصوص جو اثر پیدا ہوا وہ روحانی احساسات اور جذبات کے سبب سے تھا۔اس لئے عام فاتحین کی آوازوں سے جواثر پیدا ہو وہ اس اثر سے برابری نہیں کر سکتا اور نہ ہی برابر کہلانے کا مستحق ہے جو آنحضرت مہ کی آواز سے پیدا ہوا۔غرض آنحضرت سے بارہ ہزار سپاہیوں کا لشکر لے کر میدان میں آگئے اور ادھر سے چار ہزار آدمی مقابلہ کے لئے آئے جو نہایت ہی تجربہ کار تھے۔مسلمانوں کی فوج کا کچھ