زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 230
زریں ہدایات (برائے طلباء) 230 جلد سوم حصہ ایسے مقام پر ٹھہرایا گیا جہاں راستہ بالکل تنگ تھا۔صرف چند گز کی سڑک تھی جس میں سے انہوں نے گزرنا تھا۔یعنی ان منڈیروں کے ساتھ ساتھ بنو ثقیفہ کی فوج نے گزرنا تھا کہ جن پر مسلمان متعین تھے اور جہاں سے کہ وہ آسانی سے انہیں مار سکتے تھے۔لیکن باوجود اس کے جو تغیر وہاں پیدا ہوا وہ نہایت خطرناک تھا۔جیسا کہ قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے ان کے دل میں خیال پیدا ہو گیا کہ شاید ہم ہی یہ سب کام کر رہے ہیں اور ہمارے ہی زور بازو سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔اور جب دس ہزار سے ہم نے مکہ فتح کر لیا اب تو ہم بارہ ہزار ہیں۔اب ہمیں کون شکست دے سکتا ہے۔پھر مقابلہ بھی صرف چار ہزار سے ہے اور وہ بھی بنو ثقیف کی قوم سے جو کوئی ایسی لڑاکا اور جنگجو قوم نہیں۔غرض اِدھر ان کے دل میں یہ خیال تھے ادھر اہل مکہ جو نئے نئے فتح ہوئے تھے وہ ان کی ان باتوں کو دیکھ کر کہ رہے تھے اب تو ہم بھی تمہارے ساتھ ہیں اب کون ہے جو تمہیں روک سکے۔غرض یہ سب باتیں جمع ہو رہی تھیں لیکن تیروں کے پہلے ہی واروں نے نہ صرف سواروں میں بلکہ گھوڑوں اور اونٹوں کے دلوں میں بھی رعب ڈال دیا۔اچھے اچھے سواروں کے نیچے گھوڑے تڑپتے تھے، بدکتے تھے گویا چاہتے تھے کہ ہم ان کو گرا کر بھاگ جائیں۔میں نے تجربہ کیا ہے میں گھوڑے رکھا کرتا تھا کہ گھوڑے سوار کو پہچانتے ہیں۔اگر وہ سمجھ لیتے ہیں کہ سوار مضبوط اور پورا سوار ہے تو کان دبائے چلے جاتے ہیں۔اور اگر وہ جان لیتے کہ سوار مضبوط نہیں اور فن سواری میں پورا مشاق نہیں تو وہ پھر آرام سے نہیں چلتے۔میں نے دیکھا ہے کہ اگر ایک گھوڑا میرے نیچے کان دبائے چلا جاتا ہے تو دوسرے کے نیچے آکر وہ شوخیاں کرتا اور دلتیاں چلاتا ہے۔غرض گھوڑے بھی سوار کو پہچانتے ہیں۔تو انہوں نے بھی سمجھ لیا کہ یہ وہ سوار نہیں جنہوں نے مکہ فتح کیا تھا۔غرض اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔وہ اگر چاہتے بھی تھے کہ کھڑے رہیں لیکن ان کی سواریاں بے بس ہو گئیں اور آنحضرت ﷺ صرف بارہ آدمیوں کے درمیان اس میدان میں رہ گئے۔بے شک ان میں سے بہت سے ایسے بھی تھے کہ دل سے چاہتے تھے کہ وہاں ٹھہریں مگر وہ اپنے آپ کو سنبھال نہ سکے۔اور جب یہ حالت ہوئی تو ان لوگوں میں بھی جو صرف ٹوٹ کے لئے آئے تھے یہ دلیری پیدا ہو گئی کہ مسلمانوں کو