زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 182
زریں ہدایات (برائے طلباء) 182 جلد سوم وابستگی کو اپنے سے جدا نہیں کر سکتا۔اسی طرح انسان خواہ کتنا بڑا ہو جائے اور خواہ کتنی ترقی کر جائے ، کتنا ہی بڑا عالم ہو جائے اس زمانہ کو نہیں بھول سکتا جو اس کی ترقیوں کے لئے بیج کا زمانہ ہوتا ہے کیونکہ اس کی تمام ترقیوں کے راز اسی میں پوشیدہ ہوتے ہیں۔طبعی اور قدرتی طور پر مجھے تعلیم الاسلام ہائی سکول سے وابستگی ہے اور ایسی وابستگی ہے جو کبھی قطع نہیں ہوسکتی۔بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جو قلب پر بڑا اثر کرتی ہیں اور زمانہ بچپن کے چھوٹے چھوٹے نقطے ہوتے ہیں جو آئندہ زندگی میں عظیم الشان تغیر کرتے ہیں۔میں نے اسی سال الفضل میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں اپنی زندگی پر ریویو کیا تھا اور بتایا تھا کہ کس طرح چھوٹی چھوٹی باتیں عظیم الشان تغیر پیدا کرنے کا باعث ہوئیں۔میں محسوس کرتا ہوں کہ بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیں بعض احباب اور اساتذہ نے زمانہ بچپن میں مجھ سے کہیں مگر انہوں نے میری آئندہ زندگی پر ایسا گہرا اثر ڈالا جو کبھی مٹ نہیں سکتا اور بعض باتوں کا تو مجھے اس وقت تک بعینہ وہ نظارہ یاد ہے جو ان باتوں کے وقت تھا۔ایک استاد جواب فوت ہو چکے ہیں اور جن سے بہت ہی تھوڑا عرصہ میں نے پڑھا شاید ایک ہفتہ یا ایک آدھ دن کم یا زیادہ مگر مجھے وہ کمرہ نہیں بھولتا جس میں کھڑے ہو کر اور وہ لڑکے نہیں بھولتے جوارد گرد کھڑے تھے، وہ نقشہ نہیں بھولتا جو دیوار پر لٹکا ہوا تھا، وہ جگہ نہیں بھولتی جہاں میں کھڑا تھا۔اُس وقت انہوں نے مجھے ایک چھوٹی سی بات بتائی تھی جو آج تک مع اُس لمحہ کے سارے نظارہ کے جب مجھے بتائی گئی نہیں بھولی۔اور اس کا مجھ پر ایسا اثر ہوا کہ میں نے اسے اپنا شعار بنا لیا۔اب بھی وہ کمرہ ، وہ شعور ، وہ کیفیات بلکہ احوال ظاہری کے ساتھ میری نظروں کے سامنے ہے۔وہ وہی کمرہ ہے جو ایک شیر فروش کی دکان کے سامنے ہے اور اب اس میں درزی خانہ ہے۔اسی طرح اور بہت سے نظارے ہیں جو مجھے یاد ہیں۔پس چونکہ اس سکول کے ساتھ مجھے خاص وابستگی ہے اس لئے خصوصیت کے ساتھ میں اس ایڈریس پر اپنے خیالات میں ہیجان اور لذت اور سرور محسوس کرتا ہوں اور اسی احساس، شعور، دلچسپی اور وابستگی کے ساتھ جو مجھے اس سکول سے ہے۔اس سکول | کے طلباء کو نصیحت کرتا ہوں کہ در حقیقت انسانی زندگی کے دو پہلو ہیں۔جب تک ان دونوں کو