زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 183
زریں ہدایات (برائے طلباء) 183 جلد سوم مد نظر نہ رکھا جائے کوئی کامیابی نہیں حاصل ہو سکتی۔ان میں سے ایک پہلو تو اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اس سے زیادہ حقیقت کوئی نہیں جو انسان کی زندگی ہے جب تک ان دونوں پہلوؤں کو مد نظر نہ رکھا جائے کہ انسان کی زندگی ایسی حقیقت ہے جیسی اور کوئی حقیقت نہیں اور دوسرے یہ کہ انسانی زندگی ایک گزر جانے والے افسانہ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی اُس وقت تک کوئی شخص کامیاب نہیں ہوسکتا۔دنیا میں یہ خوشی ہرگز خوشی کہلانے کی مستحق نہیں ہے کہ انسان دوسرے کی کامیابی پر مبارک باد کہے یا دوسرے کی ناکامی پر افسوس کرے۔خوشی کیا ہے؟ یہ کہ جو ہم چاہتے ہیں وہ حاصل ہو گیا۔اور رنج کیا ہے؟ یہ کہ جو نہیں چاہتے تھے وہ ہو گیا۔تو خوشی کے معنے یہ ہوئے کہ ہمارے مقصد اور مدعا کے مطابق کوئی امر ہو۔اور رنج مقصد کے خلاف ہونے کا نام ہے۔جب یہ بات ہے تو کیا کوئی اس بات پر خوش ہو سکتا ہے کہ دوسرے نے اس مقصد کو پورا کیا اور وہ محروم رہا؟ یا اس امر پر افسوس کر سکتا ہے کہ دوسرے کے مقصد کے خلاف جو بات تھی وہ ہوگئی ؟ حقیقی خوشی خود مقصد کو حاصل کرنے اور حقیقی رنج اس مقصد سے محروم رہنے کا نام ہے۔پس ہر ایک انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ خود اپنے اصل مقصد کو حاصل کرے۔اور جو باتیں اس کے مقصد کے خلاف ہوں ان کو دور کرے۔جو ایڈریس اس وقت دیا گیا ہے اس کے اندر وہ حقیقت مخفی ہے جسے پیش کرنے والوں نے اپنی زبانوں اور لفظوں اور طریق سے بھی ظاہر کیا ہے یعنی الفاظ کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ واضح طور پر۔جو دعوت اس وقت دی گئی ہے یا جو زیب و زینت کے سامان اس وقت اس کمرہ میں مہیا کئے گئے ہیں ان سامانوں کی زیب و زینت ، دعوت طعام اور اظہارِ خیالات یہ ہ باتیں ظاہر کر رہی ہیں کہ جن کی طرف سے یہ سب کچھ کیا گیا ہے ان کا مدعا اور مقصد بھی یہی ہے کہ وہ اسلام کو دنیا میں پھیلائیں اور اسلام کی تعلیم کے مطابق اپنی زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں۔اگر یہی مقصد ہے اور عقل کہتی ہے کہ یہی ہے تو اُس وقت تک حقیقی خوشی نہیں پیدا ہو سکتی اور نہ ہونی چاہئے جب تک اس مقصد کو حاصل نہ کر لیں۔دوسروں کو اس مقصد کی تکمیل کرتے