زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 181

زریں ہدایات (برائے طلباء) 181 جلد سوم ہے اور ایسی خوشی کوئی خوشی نہیں ہوتی۔البتہ میں یہ مانتا ہوں کہ راحت کی زندگی وہی ہوتی ہے۔اُس وقت موجودہ اور وقتی ضروریات کے علاوہ کسی چیز کی قدرو منزلت نگاہوں میں نہیں ہوتی۔مجھے ہمیشہ وہ واقعہ خاص طور پر غمگین کر دیا کرتا اور قلب کے بار یک دربار یک جذبات کو ابھار دیا کرتا ہے جو میں نے ایک دفعہ اخبار میں پڑھا کہ ایک عورت رات کو مرگئی۔وہ بیچاری اکیلی ہی تھی۔اس کا خاوند پہلے ہی مر چکا تھا اور اس کا کوئی اور رشتہ دار اس کے پاس نہ تھا وہ اکیلی ہی اپنے گھر میں رہتی تھی اور اس کا ایک چھوٹی عمر کا بچہ تھا۔رات کو وہ بچہ کو لے کر سوئی۔لیکن ایسا حادثہ ہوا کہ رات کو ہی مرگئی۔بچہ جب صبح کو اٹھا اور ماں کو لیٹے ہوئے دیکھا تو اس نے ماں کے منہ پر ہاتھ پھیرا اور کہا اٹھو۔لیکن جب ماں نے کوئی جواب نہ دیا تو اس نے سمجھا ماں مجھ سے ناراض ہے اس لئے جواب نہیں دیتی۔وہ بار بار اس کے منہ پر ہاتھ پھیرے اور کہے اٹھو۔اسی طرح وہ قریباً آدھ گھنٹہ یا پون گھنٹہ کرتا رہا کہ کوئی ہمسایہ کسی ضرورت کے لئے اس گھر میں آیا تو اس نے دیکھا کہ بچہ ماں سے کھیل رہا ہے اور نفسی کر رہا ہے مگر وہ مری پڑی ہے۔دیکھو اس بچہ کی خوشی کیسی دردناک خوشی تھی۔ایک سمجھدار اور عقلمند انسان کے نزدیک یہ خوشی ہزار غم سے بھی بڑھ کر غمگین کرنے والی تھی۔مگر بچہ کے نزدیک ایسی ہی خوشی تھی جیسی ایک عقلمند کو حقیقی طور پر خوش کن بات سے ہوتی ہے۔کیا کوئی ہے جو بچہ کی اس خوشی پر رشک کرے؟ ہرگز نہیں۔بلکہ ہر ایک سمجھدار انسان کو اس کے خیال سے درد پیدا ہو گا۔پس میں ان شاعروں سے متفق نہیں ہوں جو کہتے ہیں بچپن کا زمانہ حقیقی راحت اور حقیقی خوشی کا زمانہ ہے۔میرے نزدیک یہ زمانہ راحت کا زمانہ ہے مگر حقیقی راحت کا نہیں۔ہاں اس زمانہ کے اثرات ایسے پختہ ہوتے ہیں جو کبھی مٹ نہیں سکتے۔خواہ ان پر سو سال ہی گزر جائیں پھر بھی انسان انہیں شوق اور دلچپسی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔شوق کی نگاہ سے تو وہ ان کو دیکھتا ہے جو جہالت کی خوشیاں ہوتی ہیں اور دلچسپی کی نگاہ سے ان کو جو اس زمانہ میں بیج پھینکتا ہے۔اپنی یا سو سالہ زندگی میں جب وہ ان اثرات کو دیکھتا ہے تو سمجھتا ہے کہ آج جو نتائج پیدا ہور ہے ہیں وہ اُس بیچ کا نتیجہ ہیں جو بچپن میں ڈالا گیا تھا۔اور درخت خواہ کتنا بلند و بالا ہو جائے اور کس قدر پھیل جائے مگر پھر بھی وہ بیج کی