زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 177
زریں ہدایات (برائے طلباء) 177 جلد سوم جانتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ پنجاب کے علاوہ ہندوستان میں اور بھی علاقے ہیں۔پنجاب کے مسلمان کہتے ہیں زراعت کہاں بنیوں کے پاس ہے مگر سرگودھا اور لائل پور کے علاوہ اور بھی علاقے ہیں جہاں زراعت ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے۔ہندوستان میں ہندوؤں کی تعداد مسلمانوں کی نسبت تین گنا ہے مگر ان کے پاس مسلمانوں کی نسبت دس گنا زیادہ زمین ہے۔ہندوستان کی انڈسٹری مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی مثلاً شال، ہاتھی دانت کا کام، بنارسی دوپٹے ، چڑے وغیرہ کا کام اور اگر چہ اب ہندوؤں نے اس طرف بھی توجہ کی ہے مگر وہ اس کام میں نئے نئے داخل ہورہے ہیں۔مسلمان اب بھی ان سے سبقت لے جاسکتے ہیں۔پھر نئی قسم کی صنعت کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔مگر ہمارے ملک کے لوگوں میں یہ عیب ہے کہ وہ ابتدائی مشکلات سے گھبرا جاتے ہیں حالانکہ آخری کامیابی ابتدائی مشکلات کے بعد ہی حاصل ہو سکتی ہے اور وہ عام طور پر ملازمتوں کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔دوسرے لوگوں نے تو کچھ کرنا نہیں ہماری جماعت کے نوجوانوں کے لئے صنعت و حرفت کا میدان کھلا ہے۔بنگال میں پانچ سال سے یہ تحریک شروع ہوئی ہے مگر انگریزوں کو اعتراف کرنا پڑا ہے کہ تھوڑے تھوڑے سرمایہ سے کام شروع کرنے والوں نے یورپ کو نقصان پہنچا دیا ہے۔مثلاً صابن سازی کا کام شروع کیا گیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ جرمن، آسٹرین اور جاپانی کارخانوں والے لکھیاں مار رہے ہیں اسی طرح ہندوستان میں سالانہ سیاہی کئی کروڑ روپیہ کی صرف ہوتی ہے اس کے متعلق بھی بنگال میں کوشش شروع کی گئی ہے۔اسی طرح ٹین لاکھوں روپیہ کا ولایت سے آتا ہے اب بہت سا بنگال میں تیار ہونے لگا ہے۔نب کثرت سے یورپ سے آتے تھے، اب ہندوستان میں بننے لگے ہیں۔دیا سلائی بنانے میں اگر چہ کامیابی نہیں ہوئی مگر کارخانے جاری ہو گئے ہیں۔یہ وہ کام ہیں جو سو روپیہ سے لے کر ہزار روپیہ تک کے سرمایہ سے شروع کئے جاسکتے ہیں اور ان کاموں میں اتنا نفع ہوسکتا ہے کہ تھوڑی سی تکلیف کے بعد زیادہ آرام مل سکتا ہے۔اگر ہمارے نوجوان اپنے آپ کو ایسے کاموں میں لگائیں تو گو شروع میں انہیں تکلیف ہوگی مگر آخر میں اپنے لیے اور جماعت کے لئے مفید ثابت ہوں گے اور ایسا رستہ نکل سکتا ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ دوسروں