زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 178
زریں ہدایات (برائے طلباء) 178 جلد سوم کے مظالم اور زیادتیوں سے بچ سکتے ہیں کیونکہ جب کوئی حب قومی رکھنے والا صنعت و حرفت کے کسی کارخانہ کا مالک ہوگا تو وہ قومی لوگوں کو فائدہ بھی پہنچائے گا۔اور جب یہاں کارخانے جاری ہو جانے کی وجہ سے باہر سے مال آنا بند ہو جائے گا تو مسلمانوں کی تجارت اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں مگر یہ کام ہو سکتا ہے تعلیم یافتہ لوگوں کے ذریعہ جو نئے علوم سے اور دنیا کے حالات سے واقف ہوں اور معلوم کرتے رہیں کہ اور لوگ کیا کر رہے ہیں۔اس طرح جماعت کو بھی بہت مدد مل سکتی ہے اور تبلیغ میں بھی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔پس یہ ضروری امر ہے جس کی طرف کا لجوں کے طلباء کو نیز سکول کے طلباء کو بھی کہ وہ بھی اس وقت موجود ہیں متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔انٹرنس تک کی تعلیم حاصل کردہ بھی اگر ہوشیار ہو تو کام چلا سکتا ہے۔ہندوؤں اور سکھوں میں تو بی اے پاس بھی چھوٹی چھوٹی دکانیں شروع کر دیتے ہیں مگر مسلمانوں میں یہ بات نہیں ہے۔میں چاہتا ہوں کہ ہماری جماعت کے نوجوان اس طرف توجہ کریں یہ نسبت اس کے کہ گورنمنٹ کی ملازمت تلاش کرتے پھریں۔گورنمنٹ کی بڑی سے بڑی ملازمت گورنمنٹ کے بدلنے پر بیچ ہو جاتی ہے مگر ایک ڈاکٹر ڈاکٹر ہی رہے گا خواہ کوئی گورنمنٹ ہو۔اسی طرح صناع ہر جگہ کام کر سکتا ہے اور اس قسم کے علوم تبلیغ کے لئے بھی بہت مفید ہو سکتے ہیں۔ایک کلرک باہر جا کر کام نہیں کر سکتا مگر ایک درزی جہاں جائے کام کر سکتا ہے۔پس ہمارے نوجوانوں کو صنعت و حرفت کی طرف خصوصیت سے توجہ کرنی چاہئے۔یہ ایسا میدان ہے جو دینی اور دنیوی لحاظ سے ان کے لئے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔آخر میں میں اپنی جماعت کے بچوں کے لئے دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کے اخلاص اور روحانیت میں ترقی دے۔انہیں اپنے ارادوں کو پورا کرنے کی توفیق دے۔ان کے لئے سامان پیدا کرے۔ان پر اپنی برکات نازل کرے۔اس دنیا میں بھی اور آئندہ بھی۔“ ( الفضل 6 دسمبر 1924) 1 آل عمران: 201