زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 176
زریں ہدایات (برائے طلباء) 176 جلد سوم سے متعلق کوئی ایسی بات بتائی گئی جو ان کے لئے نئی تھی تو ان کی آنکھوں میں وہ چمک اور چہرہ پر وہ بشاشت نظر آئی جو کسی پیاسے کو پانی کے ملنے پر ہوتی ہے اور خدا کے فضل سے وہاں کامیابی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ایک عورت نئی احمدی ہوئی ہے جو بہت ہی جو شیلی ہے اور کل ہی اس کی طرف سے تبلیغی رپورٹ مجھے پہنچی ہے۔اس نے لکھا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی تبلیغی رپورٹ بھیجتی رہے گی۔تو ان لوگوں میں حق کو قبول کرنے کا مادہ ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے سامنے حق رکھا جائے۔وہاں کئی لوگوں سے لباس کے متعلق ذکر آیا تو انہوں نے کہا کہ ہم اس لئے ہندوستانیوں کو ذلیل سمجھتے ہیں کہ وہ ہماری نقل کرتے ہیں۔پہلے ہم ہندوستانیوں کو ایسا نہیں سمجھتے تھے۔چنانچہ پرانے لوگوں کی عزت کی جاتی تھی لیکن اب ان کے نقل کرنے کی وجہ سے ان کا ادب اور احترام ہمارے دلوں سے جاتا رہا ہے۔اور یہ بالکل صحیح بات ہے۔اگر یہاں کے لوگ اس وثوق اور یقین کے ساتھ وہاں جائیں کہ ہمیں ان پر یہ ثابت کرنا ہے کہ تمہارے غلام نہیں ہیں اور بعض باتیں جو جائز بھی ہوں ان میں بھی ان کی نقل نہ اتاریں۔مثلاً پتلون پہننا ناجائز نہیں ہے مگر قومی وقار کے خلاف ہے اس لئے نہ پہنیں تو اس کا ان پر بہت اثر ہو۔کئی انگریزوں نے مجھ سے اس کے متعلق سوال کیا کہ کیا پتلون پہننا آپ کے نزدیک ناجائز ہے؟ اس کے جواب میں میں نے بتایا اسلام کی رو سے منع نہیں ہے لیکن جب تم لوگ ہندوستان میں جا کر شلوار پہنو گے اُس وقت ہم بھی یہاں آکر پتلون پہن لیں گے ورنہ نہیں۔گرمی میں موٹا کپڑا پہننا مشکل ہے بہ نسبت سردی میں باریک کپڑا پہنے کے کیونکہ انسانی جسم میں گرمی کی برداشت کی اتنی طاقت نہیں ہے جتنی سردی کی برداشت کی۔مگر وہ لوگ یہاں آکر گرمی کے موسم میں بھی اپنے ہی کپڑے پہنتے ہیں جو موٹے ہوتے ہیں۔دوسری بات جو میں اپنی جماعت کے نوجوانوں کے متعلق کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ و نیوی معاملات کی طرف جو توجہ کی جائے وہ سیچ طریق سے ہونی چاہئے۔میں بہت غور کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہمارے نوجوانوں کو انڈسٹری کی طرف بہت توجہ کرنی چاہئے۔تجارت ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے اور زراعت بھی ہندوؤں ہی کے ہاتھ میں ہے۔یہ بات وہ سب لوگ