زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 175
زریں ہدایات (برائے طلباء) 175 جلد سوم بات سن کر سمجھ لیتے ہیں اس کا کرنا نہایت آسان ہے۔ایک ایسا شخص جس نے جنگ کے متعلق کوئی بھی کتاب نہ پڑھی ہو لڑائی کے متعلق گفتگو اس طرح کرے گا کہ گویا دس سال فوج کا کمانڈر انچیف رہا ہے۔مگر وہ لوگ اس طرح نہیں کرتے۔وہ ایک بات کو لے کر اس میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ اس کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں۔اور جس طرح یا جوج ماجوج کے متعلق قصہ مشہور ہے کہ وہ دیوار کو اپنی زبان سے چاہتے رہتے ہیں وہ بات ان پر صادق آتی ہے کہ ایک بات کو لے کر اس کی تحقیقات شروع کر دیتے ہیں اور جس طرح زبان کے ساتھ چاٹنے سے ایک چیز کے نہایت باریک ذرے کم ہوتے ہیں لیکن اگر لگا تار یہ فعل جاری رہے تو ایک دفعہ چاقو مار کر چلا جانے والے سے زیادہ حصہ اترے گا یہی ان لوگوں کی حالت ہے۔میرے نزدیک وہ لوگ اتنے عقلمند نہیں ہیں جتنے مستقل مزاج اور استقلال سے کام کرنے والے ہیں۔اس صفت کی وجہ سے وہ تو جس کام کو شروع کرتے ہیں اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور جوان سے زیادہ ہوشیار اور منظمند ہیں وہ استقلال نہ ہونے کی وجہ سے ناکام ہو جاتے ہیں۔ہمارے ملک کے لوگ بھی اگر اسی طرح استقلال سے کام کرتے جائیں تو یورپ کے لوگ بہت خوشی سے زانوئے ادب ان کے آگے تہہ کریں کیونکہ ان میں یہ خواہش پائی جاتی ہے کہ کوئی نئی بات جہاں سے ملے حاصل کی جائے۔چونکہ وہ لوگ ایجادوں کی وجہ سے نئی باتیں سیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں اور علم حاصل کرنے کے شوقین ہیں اس لئے جب وہ کوئی نئی بات سنتے ہیں تو ان کے چہروں سے بشاشت اور آنکھوں سے مسرت ٹپکتی ہے۔پس ہمارے نوجوان اگر روحانیت کے ساتھ تربیت بھی حاصل کر لیں تو ان کے لئے دنیا کو فتح کرنا نہایت آسان ہے۔پس یورپ سے آپ لوگوں کے لئے جو کچھ میں نے سیکھا ہے وہ یہ ہے کہ آپ لوگ اپنے نفس کی اور ہماری مدد کریں اور اعلیٰ اخلاق سیکھیں۔اگر ایسا ہو جائے تو میں امید کرتا ہوں کہ احسن طریق سے دنیا میں اسلام کو قائم کیا جاسکتا ہے۔میں نے ان لوگوں کو جتنا بھی کریدا ہے میرا دل یقین سے بھر گیا ہے اور میں نے انگلستان کے لوگوں سے کہا ہے کہ میں تمہیں خوش کرنے کے لئے نہیں کہتا بلکہ حقیقت کا اظہار کرتا ہوں کہ تمہاری روحانیت مری نہیں بلکہ دبی ہوئی ہے۔میں نے دیکھا ہے جب بھی انہیں مذہب