زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 174
زریں ہدایات (برائے طلباء) 174 جلد سوم تیشہ کس طرح لگ سکتا ہے۔مگر تربیت کے نہ ہونے کی وجہ سے ہاتھ پر لگ گیا۔تو اکثر اوقات ایک انسان خواہش کرتا ہے کہ میں کوئی کام کروں یا کسی کو آرام پہنچاؤں مگر تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتا۔اس کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ایک رعشہ کی بیماری والا ہو۔کون چاہتا ہے کہ وہ گرے لیکن جسے رعشہ ہو وہ گر پڑتا ہے۔میں اس ایڈریس کے جواب میں اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ چونکہ جماعت کی ترقی کا انحصار نوجوانوں کی تربیت پر ہے اس لئے آپ لوگ اپنے لئے اور ہمارے لئے ، اپنی روحانیت کے لئے اور ہماری روحانیت کے لئے اور تمدن کے لئے مدد کریں اور اگر ایسا ہو جائے تو بہت جلدی ترقی ہو سکتی ہے۔اور کوئی بھی مشکل نہیں ہے جو ہماری ترقی کو روک سکے یا ہمیں ہراساں کر سکے۔جب بھی کبھی کوئی مشکل وقت مجھ پر آیا ہے اُسی وقت میں نے اپنے اندر بہت زیادہ قوت پائی ہے باوجود اس بیماری کے جو اس سفر میں ہوئی یعنی آٹھ آٹھ دفعہ پاخانہ کے لئے جانا پڑتا تھا اور بعض دفعہ تو پاجامہ میں ہی نکل جاتا تھا مگر چونکہ کام تھا اس لئے میں نے اس بیماری کی کوئی پرواہ نہ کی اور برابر کام میں لگا رہا۔لیکن بیروت اور شام کے درمیان دوران سفر میں ایک دن کام نہ تھا تو ایسی حالت ہوئی کہ میرے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے اور غشی تک نوبت پہنچ گئی۔یہی بات ہندوستان میں ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ جتنا کبھی کام بڑھا ہے اتنی ہی زیادہ خدا تعالیٰ نے طاقت دے دی ہے۔پس مشکلات کوئی چیز نہیں۔اگر خدا تعالیٰ پر بھروسہ اور یقین ہو تو مشکلات کمزور نہیں کرتیں بلکہ طاقتور بناتی ہیں۔میں کبھی مشکلات سے نہیں گھبراتا، نہ مجھے یہ خوف ہے کہ آپ لوگوں کو ان کا سامنا کرنا پڑے گا۔اگر ڈر ہے تو یہی کہ تربیت اخلاص کو نہ لے جائے۔اگر تم لوگ تربیت میں مکمل ہو جاؤ تو اخلاص میں کمی نہ آجائے اور جب یہ دونوں باتیں حاصل ہو جائیں گی تو یورپ کا فتح کرنا کچھ بھی مشکل نہیں ہوگا۔میرا خیال ہے کہ یورپ کے ایک عام آدمی کی سمجھ ہندوستان کے ایک عام آدمی کی نسبت کم ہے اور یورپ کے ایک لکھے پڑھے آدمی کی سمجھ ہندوستان کے ایک لکھے پڑھے آدمی سے کم ہے لیکن عام تجربہ اور تربیت کے لحاظ سے وہاں کے لوگ بہت بڑھے ہوئے ہیں۔یہاں کے لوگوں میں نقص ہے کہ ایک