زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 13
زریں ہدایات (برائے طلباء) 13 جلد سوم احسانوں کی قدر کرنے والا تھا کیا ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس انسان کی محنتوں اور مشقتوں کو اکارت کر دے اور اس کی ہتک کروائے؟ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔اگر ایسا ہو تو خدا کی خدائی میں الشر فرق آجاتا ہے۔پس یہ بات تسلیم کرنی پڑے گی کہ کوئی ایسا عقیدہ جس سے رسول الله الا اللہ ہتک ہو آپ کو ماننے والا کوئی نہیں رکھ سکتا۔اگر رکھتا ہے تو وہ جھوتا ہے۔پھر ہم کہتے ہیں یہ صرف نحو کی بخشیں مولویوں پر چھوڑ دو۔وہ شخص جس کی سمجھ موٹی ہے اور جو قرآن بھی نہیں جانتا اس کو ہم کہتے ہیں وہ یہ تو مانتا ہے کہ رسول کریم ﷺ خاتم النبین ہیں اور خدا تعالیٰ کے سب انبیاء پر آپ کو فضیلت حاصل ہے۔آپ کی ساری عمر خدا تعالیٰ کے جلال کے اظہار میں صرف ہوئی ہے۔پھر کیا یہ بات عقل مان سکتی ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے انسان کو نعوذ باللہ ذلیل ہونے دے؟ یہ نہیں تسلیم کیا جاسکتا۔پس جب یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا تو ہم کہتے ہیں کہ باقی مسائل پر کوئی لمبی چوڑی بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔صرف یہی دیکھ لو کہ جو دعویٰ کیا جاتا ہے اس سے آنحضور ﷺ کی ہتک ہوتی ہے یا عزت ؟ اگر ہتک ہوتی ہے تو وہ دعویٰ باطل ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے حضور آپ کی جو عظمت اور شان ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے کس طرح ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسا عقیدہ درست ہو جس سے آپ کی ہتک ہو۔وہ ضرور ہی باطل ہوگا۔اس کے سمجھنے کے لئے کسی علم کی ضرورت نہیں بہت موٹی بات ہے۔اور اگر کسی دعوئی سے آپ کی عزت اور عظمت ظاہر ہوتی ہے تو اس کے درست ماننے میں کوئی انکار نہیں ہونا چاہئے۔اس بات کو مد نظر رکھ کر اس اختلاف کو جو ہم میں اور غیر احمدیوں میں ہے دیکھنا چاہئے۔ایک بہت بڑا مسئلہ وفات مسیح کا ہے۔ہم کہتے ہیں حضرت مسیح فوت ہو گئے ہیں اور غیر احمدی کہتے ہیں زندہ ہیں۔اس کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ دیکھو کون سے عقیدہ سے آنحضرت مے کی شان ظاہر ہوتی ہے اور کون سے عقیدہ سے آپ کی ہتک ہوتی ہے۔سیہ ایک ثابت شدہ بات ہے کہ زندہ مردہ سے بہر حال اچھا ہوتا ہے اور اسی کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے جو دنیا کے لئے مفید اور فائدہ رساں ہو۔ایک تو انسان کی عمر طبیعی ہوتی ہے اس کے اندر اندر کسی کے لئے زندہ رہنے کی کوشش کرنا ایک اور بات ہے لیکن جب کسی انسان کو