زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 14

زریں ہدایات (برائے طلباء) 14 جلد سوم عمر طبعی سے گزر کر خاص طور پر زندہ رکھا گیا ہو تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ گویا وہ ان سب سے زیادہ مفید اور نفع وہ ہے جن کو عمر طبعی گزرنے پر زندہ نہیں رکھا گیا۔اس بات کو ذہن میں رکھ کر صل الله جب ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کو تو سب مسلمان وفات یافتہ تسلیم کرتے ہیں لیکن حضرت مسیح کی نسبت کہتے کہ وہ انیس سو سال سے برابر زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں۔حالانکہ اس قدر لمبی عمر کسی انسان کی نہ آج تک ہوئی اور نہ ہوسکتی ہے۔حد سے حد 180 سال تک کی عمر دیکھی گئی ہے۔حضرت نوح کی عمر جو قرآن کریم میں بیان کی گئی ہے وہ ایک اور رنگ کی عمر ہے۔ان کی عمر در حقیقت ان کی قوم اور جماعت کی عمر ہے۔تاریخ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ سو پونے دوسو کے قریب قریب عمر ہوتی ہے۔مگر حضرت مسیح کی نسبت کہتے ہیں کہ انیس سو سال تک زندہ بیٹھے ہیں۔اور اگر آج ہی اتر آئیں تو چالیس سال اور زندہ رہیں گے گویا حضرت مسیح کی اس وقت ہی اتنی عمر قرار دی جاتی ہے کہ عام عمر سے ہیں گنا زیادہ ہے۔اب ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح کو اس قدر غیر معمولی عمر دینے میں حکمت اور مصلحت کیا تھی۔اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کو اس قدر عرصہ تک زندہ رکھنے کی یہ غرض ہے کہ تا وہ آخری زمانہ میں آنحضرت ﷺ کی جگہ آئیں اور آکر آپ کی امت کی اصلاح کریں۔اسی مقصد اور مدعا کے لئے انہیں خدا تعالیٰ نے موت سے بچا کر زندہ رکھا ہوا ہے۔لیکن اس صلى الله بات کے ماننے سے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ نعوذ باللہ رسول کریم علیہ اس قابل نہ تھے کہ آپ کو اس طرح زندہ رکھا جاتا اور دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جاتا حالانکہ خدا تعالیٰ نے آپ سے وعدہ بھی فرمایا تھا مگر حضرت مسیح کو تو زندہ رکھا اور آپ کو 63 سال کی عمر میں وفات دے دی اور آپ اسی زمین میں دفن کئے گئے۔ہزاروں مسلمان اسی عقیدہ میں پھنس کر عیسائی ہو گئے ہیں۔عیسائی انہیں اس طرح دھوکا دیتے ہیں کہ تم کہتے ہو سب نبیوں سے ہمارا نبی بڑا ہے۔وہ کہتے ہیں ہاں۔عیسائی کہتے ہیں پھر جو تمہارے نبی سے بڑا ہو وہ تو خدا ہوا۔کہتے ہیں کہ ہاں۔وہ کہتے ہیں اچھا تمہارا نبی زندہ ہے یا