زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 173
زریں ہدایات (برائے طلباء) 173 جلد سوم ان کا ارتکاب کرنا ان کے نزدیک برا نہیں ہے۔یہ بچوں کی مجلس ہے اس لئے میں ان باتوں کو بیان کرنا نہیں چاہتا۔مجھے آپ کے ایڈریس سے خصوصیت کے ساتھ خوشی ہوئی ہے مگر میں اس کے ساتھ ہی اس طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جب قوم کی آئندہ ترقی آئندہ نسل پر ہوتی ہے تو تربیت اور روحانیت دونوں پہلوؤں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔بعض اخلاق روحانیت نہیں ہوتے یا یوں کہنا چاہئے کہ بعض اخلاق کی خواہش روحانیت نہیں ہوتی۔اور جو شخص یہ کوشش جاری رکھتا ہے کہ اعلیٰ اخلاق حاصل کرے اس میں اخلاص اور روحانیت ہوتی ہے مگر وہ ایسا محفوظ نہیں ہوتا کہ اسے کوئی خطرہ نہ ہو۔وہ خطرہ اور امن کی سرحد پر ہوتا ہے اور قرآن کریم نے رابطوا کہہ کر سرحدوں کی حفاظت کی طرف توجہ دلائی ہے اس لئے ایسا آدمی اگر پرواہ نہیں کرے گا تو گر جائے گا۔ایسا آدمی جس کی تربیت مکمل نہ ہو روحانیت حاصل کر سکتا ہے لیکن جب وہ تربیت کی وجہ سے کسی پر غصہ ہوتا ہے یا کسی سے لڑتا ہے تو گو یہ اس کے لئے مضر نہ ہومگر جس پر اس کی لڑائی اور غصے کا اثر پڑتا ہے اس کے لئے ضرور مضر ہو گا۔آپ لوگوں کو اخلاق کی درستی ابھی سے ایسے رنگ میں کرنی چاہئے کہ آئندہ نتیجہ برا نہ ہو۔اگر کوشش کی جائے تو پہلی نسل اخلاق میں بہت ترقی کر سکتی ہے اور جب اس کے ساتھ اخلاص بھی مل جاوے تو کامیابیاں بہت بڑھ جاتی ہیں۔میرے نزدیک اگر تین چار نسلوں کو اعلیٰ اخلاق سکھا دیئے جائیں اور ان میں روحانیت کو بھی قائم رکھا جاوے تو اس پیشگوئی کو نہایت آسانی کے ساتھ پورا کیا جاسکتا ہے جو حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں شیطان کے کچلے جانے کے متعلق ہے۔اس وقت تک جو کی ہے وہ یہی ہے کہ اخلاق اور روحانیت کو ایک ہی سمجھ لیا گیا ہے حالانکہ اخلاق تربیت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور تربیت سیکھنے سے آتی ہے۔یہ بات میں نے کئی بار بتائی ہے کہ میرے لڑکپن کے زمانہ میں ہمارا مکان بن رہا تھا میں نے ترکھان کو نیشہ سے کام کرتے دیکھ کر اسے ایک معمولی کام سمجھا۔اور جب وہ ادھر اُدھر ہوا تو میں نے نتیشہ اٹھا کر لکڑی پر مارا جو پہلی دفعہ ہی مارنے سے میرے ہاتھ پر جا لگا۔جس کا اب تک نشان موجود ہے۔میں نے سمجھا تھا جب لکڑی سامنے ہے، تیشہ ہاتھ میں ہے اور آنکھیں کھلی ہیں تو پھر