زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 172

زریں ہدایات (برائے طلباء) 172 جلد سوم جن مسائل پر وہ اعتراض کرتے ہیں ان کے متعلق ان سے مکالمے ہوئے۔مگر کبھی کسی موقع پر مجھے یاد نہیں کہ کوئی ایسی بات کسی نے پیش کی ہو جس کے جواب کے لئے مجھے نئی تحقیقات کی ضرورت محسوس ہوئی ہو۔جب بھی انگریزوں سے کسی مسئلہ پر گفتگو ہوئی وہ خاموش ہو گئے۔ایک انگریز ڈاکٹر کو مصباح الدین صاحب لائے تھے جو کہتا تھا خدا کے ماننے کی کیا ضرورت ہے۔مگر جب میں نے ضرورت بیان کی تو اس نے تسلیم کیا کہ خدا کو ماننے کی ضرورت ہے۔وہ انگریز اس لئے چپ نہ ہو جاتے تھے کہ ان سے چپ کرانے کے طریق سے گفتگو کی جاتی تھی۔گفتگو دونوں طرح کی جاتی ہے۔کبھی تو اس طرح کہ جب کوئی شخص بے فائدہ بات کو طول دے رہا ہو اور اس کی غرض محض باتیں کرنا ہو نہ کہ کوئی امر دریافت کرنا تو اسے چپ کرانے کے لئے جواب دیئے جاتے ہیں۔اور مجھے ہندوستانیوں سے گفتگو کرتے ہوئے افسوس کے ساتھ معلوم ہوا کہ وہ گفتگو محض گفتگو کے لئے کرتے تھے کسی مسئلہ کی تحقیقات کے لئے نہیں۔مگر انگریزوں میں سے مجھے کوئی ایسا نہیں ملا جس سے مجھے چپ کرانے کے طریق سے گفتگو کرنے کی ضرورت پیش آئی ہو۔اور سفر یورپ سے مجھے جو بہت بڑا تجربہ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کو ہر ملک میں، ہر علم کے لوگوں میں اور ہر طبقہ میں پیش کیا جاسکتا ہے اور اس کے لئے کسی نئی تحقیقات کی ضرورت نہیں۔ایک دفعہ بھی تو میرے سامنے کوئی ایسا سوال پیش نہیں ہوا جس کے متعلق مجھے ذرا بھی احساس پیدا ہوا ہو کہ یہ کوئی نئی بات ہے۔مگر مشکل یہی ہے کہ وہ لوگ تربیت اور روحانیت کو جدا نہیں کر سکتے۔اور انہوں نے کیا کرنا ہے مسلمان علماء بھی اسی غلطی میں پڑے ہوئے ہیں۔بمبئی میں مولوی ابوالکلام صاحب نے باتوں باتوں میں کہا مجھے سمجھ نہیں آتا عمل کے سواروحانیت کیا ہے۔تو علماء کو بھی یہی ٹھو کر گئی ہوئی ہے کہ وہ روحانیت اور تربیت کو ایک ہی سمجھتے ہیں اور وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ روحانیت بالکل الگ چیز ہے اور تربیت الگ۔وہ کہتے ہیں مذہب اسی لئے ہوتا ہے کہ دیانتداری سکھائے ، حسن سلوک سکھائے ، جرائم سے بچائے۔اور جن لوگوں میں یہ اخلاق پائے جائیں وہ روحانیت کے حامل سمجھے جاویں۔پھر جو لوگ اس سے بھی آگے بڑھے ہیں اور مذہب سے بالکل آزاد ہو گئے ہیں انہوں نے ہر گناہ اور بدی کا فلسفہ ایجاد کر لیا ہے اور