زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 163
زریں ہدایات (برائے طلباء) 163 جلد سوم بڑی قربانی ہے جبکہ وہ دوسری بیوی سے بھی ویسی ہی محبت کرے گا۔سوال: کیا یہ جائز ہے کہ عورت کا ولی یا اگر عورت بالغ ہو تو خود شادی کے وقت یہ شرط کرے کہ اس کا شوہر دوسری شادی نہ کرے گا۔حضرت : ہمارے نزدیک یہ جائز ہے۔سوال: لونڈیوں کی تو کوئی حد نہیں۔حضرت : ہم اس کو جائز نہیں سمجھتے۔عبد الحکیم : اب تک مکہ میں اس کا رواج ہے کہ لونڈیاں فروخت ہوتی ہیں۔حضرت: اگر ہمارا اختیار ہو تو سب سے پہلے اس کو منسوخ کریں۔اگر وہ لونڈی کہہ دے کہ وہ جنگی قیدی نہیں ہے تو اسے حق ہے کہ اپنے حق کی بناء پر آزاد ہو جائے۔حضرت عمر کے عہد میں ایک قوم کو آزاد کر دیا گیا تھا۔عبد الحکیم : غلام کی کمائی کس کی ہوگی ؟ حضرت جس دن وہ آزاد ہو جاوے اس کی کمائی الگ ہو جائے گی۔قرآن مجید سے تو ثابت ہوتا ہے کہ جب وہ آزاد ہونا چاہے فوراً ا سے آزاد کرنا چاہئے اور اگر اس کے پاس روپیہ نہ ہو تو گورنمنٹ روپیہ دے کر آزاد کرائے۔عبد الحکیم : تعدد ازدواج کے متعلق میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایک عورت نے جب شادی کی تو اس کے شوہر کی ایک سو روپیہ آمدنی تھی۔اب اگر وہ چار کر لے تو اس کے حصہ میں پچیس روپے آئیں گے کیا یہ اس پر ظلم ہو گا یا نہیں؟ حضرت عورت اگر سمجھتی ہے کہ ظلم ہے تو اس کو اسلام نے ضلع کرالینے کا حق دیا ہے۔علاوہ ازیں کیا اس کے ساتھ ہی مرد کی ضروریات میں بھی کمی ہوگی یا نہیں ؟ اور پھر اگر ایک عورت کے ہی چار بچے ہو جائیں تو وہ رقم تقسیم ہو جائے گی یا نہیں؟ عبد الحکیم : معمولی آمدنی کا آدمی جب دوسری شادی کرتا ہے تو بچوں کے اخراجات میں کمی ہو جاتی ہے اور ان بچوں پر ظلم ہوتا ہے اور اس خاندان کا کلچر کمزور ہو جاتا ہے۔