زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 162

زریں ہدایات (برائے طلباء) 162 جلد سوم سے نہیں ملا جب تک کہ اس نے مجھے لکھ کر نہیں دے دیا کہ میں اسلام کے قومی کیریکٹر کا پابند رہوں گا۔میں نے فیشن کی تقلید کرنے والوں کی اپنے کل کے خطبہ جمعہ میں مثال دی ہے کہ وہ اس فیشن کے ایسے غلام ہیں جیسے ایک کتامیم کے پیچھے پیچھے دوڑتا ہے۔میں اپنی جماعت میں جو روح پیدا کر رہا ہوں تم اسے سمجھو تو تمہارے یہ خیالات نہ رہیں۔میری جماعت میں کوئی شخص اپنے مقدمات کو عدالت میں نہیں لے جاتا بلکہ شریعت کے فیصلہ کے موافق قاضیوں سے طے کراتا ہے۔“ اس پر ایک شخص نے طنزاً کہا کہ چماروں میں بھی ایسا ہی ہے۔حضرت نے یہ سن کر فرمایا کہ ) یہ اس لئے ہے کہ تم ان سے عبرت سیکھو۔جن کو تم چمار کہتے ہو وہ اس معاملہ میں تم سے بہتر وو ہیں۔“ سب نے متفق ہو کر کہا کہ یہ بالکل درست ہے ) ایک طالب علم : میں نے سنا ہے کہ انڈیا آفس والے آپ کو بلا کر پوچھتے ہیں کہ ہندوستان پر کیسے حکومت کریں۔حضرت : یہ غلط ہے کہ مجھ سے یہ پوچھا گیا۔تعدد ازدواج طالب علم : ایک اور سوال کرتا ہوں قرآن شریف نے کہاں تک اجازت دی ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں کریں۔حضرت : قرآن شریف نے چار تک حکم دیا ہے اگر عدل نہ کر سکے تو پھر ایک ہی کرے۔ہر ایک بیوی کو برابر باری دے اور برابر مال دے۔میں نے اپنی جماعت کے لئے حکم دے دیا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ شادی کر کے عدل نہیں کرے گا تو میں اس کو سزا دوں گا جو قومی بائیکاٹ ہوگا۔سوال: محبت برابر نہیں ہوسکتی۔حضرت: کیا ایک شخص اپنے متعدد بچوں سے محبت کرتا ہے یا نہیں؟ یہ خیال صحیح نہیں۔اپنے عمل سے انسان مساوات رکھ سکتا ہے۔اور میں اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ یہ عیش نہیں بلکہ ایک بہت