زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 164
زریں ہدایات (برائے طلباء) 164 جلد سوم حضرت: اس کا جواب دو طرح ہے۔اول تو اگر بچے زیادہ ہو جائیں تو آپ کے اصول کے موافق اس کثرت سے ہی کلچر کمزور ہو گا اور پہلے بچے پر ظلم ہوگا اس لئے اولاد پر کنٹرول ہونا چاہئے اور یہ طریق غلط ہے۔دوسرے اسلام نے تعلیم کا بار حکومت پر رکھا ہے۔حکومت کو یہ باراٹھا نا چاہئے کیونکہ وہ بچے قومی طاقت کا جزو ہیں۔عبد الحلیم : کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ تعلیم دلا نا قوم کا حق ہے؟ حضرت : ہاں۔عبد الحکیم : گورنمنٹ کو ٹیکس بڑھانے پڑیں گے اور لوگ جب تعلیمی بوجھ سے اپنے آپ کو آزاد سمجھیں گے تو اولا د بڑھے گی۔حضرت : گورنمنٹ پر تعلیمی بار سے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ سب بوجھ اٹھائے بلکہ جس قدر والدین اٹھا ئیں ان پر ڈالا جائے باقی حکومت کو اٹھانا چاہئے۔اور اس کے لئے اگر ٹیکس لگانے کی پڑتے ہیں تو وہ قوم کی مشترکہ ضروریات اور بہتری کے لئے ہیں، اس میں حرج کیا ہے؟ عبدالحکیم : میرا سوال حل ہو گیا۔مبلغین کا شادی کرنا ایک شخص میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ آپ کے مشنری یہاں آ کر شادی کریں۔حضرت : میں مبلغین کے لئے یہ جائز نہیں رکھتا کہ وہ باہر جا کر شادی کریں۔کیونکہ اگر وہ روپیہ کمانے کے لئے جاتے تو ان کی بیوی کو یہ تسلی ہوتی کہ وہ روپیہ کما کر لائے گا۔لیکن جب وہ تبلیغ کے لئے آتا ہے تو اس کی بیوی اس کے اس نیک مقصد کے لئے خود بہت بڑی قربانی کرتی ہے۔اس لئے اگر وہ آ کر شادی کرتا ہے تو وہ اس قربانی کی ہتک کرتا ہے جو اس کی بیوی نے کی ہے۔پس اس کو بھی قربانی کرنی چاہئے اور میں نے یہ قاعدہ بنا دیا ہے۔سائل : یہ بہت ہی اچھا قانون ہے۔ایک اور شخص: اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ شادی کر لے اور پہلی بیوی کو شکایت ہو تو وہ کیا