زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 156

زریں ہدایات (برائے طلباء) 156 جلد سوم کہ اس کو گا نا سکھاؤ ؟ اور اس سے بڑھ کر کوئی ظلم اور بے حیائی ہو سکتی ہے کہ ایک عورت کی لاش کو قبر سے نکال کر کتوں کے سامنے پھینک دیا۔اور بعض اخباروں نے اس فعل کی تحسین کی اور کسی ر مسلمان سے نہ ہو سکا کہ ان پر اظہار افسوس کرتا۔اختلاف کے سوال کو چھوڑ کر یہ کیسی بے رحمی اور بداخلاقی ہے۔اسی رمضان میں ایک شخص کو پانی تک لینے نہ دیا اور سخت دکھ دیئے اور پکڑ کر بند کر دیا کہ وہ اپنی شکایت بھی نہ کر سکے۔قصور میں ہماری جماعت کو جس طرح پر دکھ دیا گیا وہ ایک تازہ مثال ہے۔آئے دن مختلف مقامات پر مسلمان محض اختلاف کی وجہ سے ہماری جماعت کو تکلیف دیتے ہیں۔پھر ان حالات میں اگر اس نے یہ کہا تو کیا غلط ہے۔عبد الحکیم : حالات اس قسم کے ہیں تو آپ کا اور آپ کی جماعت کا یہ فرض ہے کہ اپنی حفاظت اس طریق پر کریں۔مسئلہ خلافت کی وجہ سے بھی مخالفت ہوئی ہے۔سلطنت ترکی سے ہمدردی حضرت: خلافت کے سوال کے متعلق سن لو۔جب لکھنو میں خلافت کانفرنس کا پہلا جلسہ ہوا ہے تو مولوی عبد الباری صاحب نے مجھے دعوت دی اور بلایا۔میں نے دیکھا کہ میرے جانے سے کوئی فائدہ نہیں۔یہ لوگ کسی کی صحیح بات کو مان نہیں سکتے۔تاہم میں نے ایک رسالہ لکھا اور ایک وفد بھیجا۔رسالہ میں میں نے بتایا کہ خلافت ترکی کا سوال پیش نہ کیا جاوے، کیونکہ مسلمانوں کے بعض فرقے اس کو نہیں مانتے۔سلطان ترکی کے سوال کو رکھا جاوے جس کے ساتھ ہر مسلمان کو ہمدردی ہے اور میں نے یہ بھی لکھا کہ ترکوں اور اسلام کے متعلق جو غلط فہمیاں یورپ و امریکہ میں پھیلائی گئی ہیں ان کو دور کیا جاوے۔میں نے خود اس کام کے لئے اپنی طرف سے مبلغ دینے کا وعدہ کیا جو ان غلط فہمیوں کو دور کریں۔اُس وقت اس کی طرف کسی نے خیال نہ کیا لیکن بعد میں جب شیعہ اور اہلحدیث اور دوسرے لوگوں نے جو خلافت کے قائل نہیں مخالفت کی تو اب ان کے بعض لیڈر تسلیم کرتے ہیں کہ جو طریق میں نے بتایا تھا وہی صحیح تھا۔اور اب جس حالت میں یہ مسئلہ آ گیا ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔میں نے ہر موقع پر اپنی طاقت کے موافق مدد دینی چاہی ہے لیکن یہ ہم سے نہیں ہو سکتا کہ ہم مذہب کو قربان کر دیں۔مذہب کے لئے ہم ہر ایک قربانی کر سکتے ہیں مگر اس