زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 155
زریں ہدایات (برائے طلباء) 155 جلد سوم حضرت: اس کے لئے ہمارا ایڈریس واضح ہے۔ہم نے اس کو بتایا تھا کہ ہم کو آپریٹ (Co-operate) کر سکتے ہیں اور ان کو ان غلطیوں سے بھی آگاہ کرنا تھا جو حکومت کی طرف سے ہوتی ہیں۔عبد الحکیم : مطلب یہ ہے کہ آپ ریڈنگ کے پاس گئے اور اس کو رعایا پرور اور حریت پرور کہتے ہیں۔حضرت آپ نے یہ کہاں سے نکالا ہے کہ ہم حریت پرور کہتے ہیں یا اس قسم کے اور الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ہمارا ایڈریس موجود ہے۔بغیر دیکھے اور معلوم کرنے کے ایک بات کہنا جس کی اصلیت نہ ہو پسندیدہ بات نہیں ہوتی۔عبد الحکیم : آپ نے پبلک کی شکایتوں کا بھی ذکر کیا ہے۔حضرت : میں تو ابھی کہہ چکا ہوں کہ ہمیشہ ہم نے حکومت کی غلطیاں ظاہر کی ہیں اور اُسی ایڈریس میں موجود ہیں۔عبدالحکیم : میں نے پڑھا نہیں۔حضرت: پھر بغیر پڑھنے کے اس قسم کے اعتراض درست نہیں ہیں۔ہم کسی انسان کی خوشامد نہیں کر سکتے اور حقیقت کے اظہار سے کوئی چیز ہم کو روک نہیں سکتی۔ابھی اوڈوائر کے مقدمہ میں شہادت کا سوال تھا ہم نے صاف کہہ دیا تھا کہ ہم ڈائر کی غلطیوں کا بھی اظہار کریں گے۔غرض ہم نے کسی موقع پر اظہارِ حقیقت سے پر ہیز نہیں کیا ہے۔عبد الحلیم : میں ایک دفعہ شملہ پر تھا وہاں پر ایک احمدی نے کہا تھا کہ گورنمنٹ کی وجہ سے ہم مسلمانوں سے پناہ میں ہیں۔حضرت: اگر واقعات ایسے ہوں تو پھر اعتراض کیا ہے۔اس موقع پر حضرت کو ان تکالیف کے تصور سے جو غیر احمدی احمد یوں کو دیتے ہیں جوش آگیا اور آپ نے پُر جوش لہجہ میں فرمایا ) کیا آپ اس کو جائز سمجھتے ہیں کہ کسی احمدی کی لڑکی کو پکڑ کر کنجروں کو دے دیا جاوے