زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 157

زریں ہدایات (برائے طلباء) 157 جلد سوم صداقت کو ہم نہیں چھوڑ سکتے جو خدا کی طرف سے آئی ہے۔“ (حضرت کی اس تقریر کا بہت اثر ہوا اور پروفیسر عبد الحکیم صاحب کہنے لگے کہ یہ بالکل درست ہے۔میں جب قسطنطنیہ میں تھا اور سید امیر علی اور سر آغا خان صاحب کی طرف سے خلافت کی تائید میں خیالات کا اظہار ہوا تو لوگ کہتے تھے کہ یہ خود تو خلافت کے قائل نہیں ) پہلا طالب علم : میری سمجھ میں تو آپ کی پوزیشن آگئی ہے اور جو اعتراضات آپ پر ملک کی آزادی کے متعلق ہوتے ہیں وہ درست نہیں بات بالکل صاف ہو گئی ہے۔مسلمانوں کو کافر کہنا ایک طالب علم : کہتے ہیں کہ آپ مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں؟ حضرت: آپ عیسائیوں کو کافر کہتے ہیں تو کیا ان کا حق ہے کہ آپ کو مار دیں؟ وہی طالب علم: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ اسلام کا خلاصہ ہے۔پھر جب کوئی شخص کلمہ پڑھتا ہے تو احمدی اس کو کا فرکیوں کہتے ہیں؟ حضرت: ایک بات میں آپ سے پوچھتا ہوں۔اگر کوئی شخص یہی کلمہ پڑھتا ہو مگر یہ کہے کہ میں موسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا وہ نعوذ باللہ مفتری تھے تو آپ اسے کیا کہیں گے؟ طالب علم : کافر ہی ہوگا۔اس موقع پر پھر پروفیسر عبد الحکیم صاحب نے سلسلہ کلام شروع کیا اور کہا ) عبد الحکیم : اس میں ایک مغالطہ ہے۔آنحضرت یہ شریعت کو کامل کر گئے اور اب کوئی چیز دین کے لئے باقی نہیں۔اس لئے میں اس بات کے لئے مجبور نہیں ہوں کہ کسی دوسرے کو نبی یا نیک سمجھوں۔اگر کوئی شخص آنحضرت ﷺ کو مانتا ہو اور موسی کا غلام نہ ہو تو میرے خیال میں وہ مسلمان ہو گا۔حضرت: آپ کے خیال کو میں نہیں پوچھتا۔دوسرے مسلمان اس کو مسلمان نہیں مانتے اور نہیں مانیں گے جو حضرت موسی کا انکار کرے۔طالب علم : یہ بالکل درست ہے۔