زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 154

زریں ہدایات (برائے طلباء) 154 جلد سوم حضرت مجھ سے جو سوال ہوا ہے میں نے اس کا جواب بارہا دیا ہے۔کل کے خطبہ جمعہ میں بھی اس سوال کا جواب آ گیا ہے۔میں نے ہمیشہ کہا ہے اور انگریزوں کو کہا ہے کہ یہ خیال غلط ہے کہ ہندوستانی حکومت کے قابل نہیں۔میں نے اس سوال پر غور کیا ہے اور میں اس کے دلائل رکھتا ہوں کہ ہندوستانی ہندوستانیوں پر حکومت کر سکتے ہیں۔ہاں اگر یہ سوال ہو کہ ہندوستانی فرانس یا انگلستان پر حکومت کر سکتے ہیں؟ تو ہم کہیں گے ہر گز نہیں۔لیکن یہ سوال ہی غلط ہے کہ ہندوستانی ہندوستان پر حکومت کر سکتے ہیں یا نہیں۔ہر ایک ملک کے باشندے اپنے ملک پر حکومت کر سکتے ہیں۔کیا افغان افغانستان پر حکومت نہیں کرتے ؟ کیا وہ ہندوستانیوں سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں؟ آپ نے خوشامد پر بہت زور دیا ہے۔“ خلیفہ عبدالحکیم نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہہ دیا تھا کہ گورنمنٹ کی خوشامد کی جاتی ہے۔اس کی طرف اشارہ ہے۔عرفانی ) در کسی وجہ سے آپ کا یہ خیال ہو گا۔ہم تو کسی کی خوشامد نہیں کرتے خواہ وہ کوئی ہو۔ہم نے گورنمنٹ کو ہمیشہ اس کی غلطیوں سے آگاہ کیا ہے اور صاف صاف کھلے الفاظ میں اس کو بتایا ہے۔ہمارے ایڈریس اس پر شہادت دے رہے ہیں اور تمام افسروں کو معلوم ہے کہ ہم نے ہمیشہ ان کی غلطیاں ظاہر کی ہیں۔خوشامد وہ شخص کرے جس کو گورنمنٹ سے کچھ لینا ہو۔ہم تو ان کو سلام کرنے کے لئے بھی نہیں جاتے اور کوئی شخص یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ ہم نے کبھی کسی قسم کی خواہش ان سے کی ہو۔میں اگر کبھی کسی سے ملا ہوں تو میری غرض بعض ان غلط فہمیوں کو دور کرنا ہوئی ہے جو ملکی مفاد اور ملکی امن کے خلاف ہوتی ہیں نہ کوئی ذاتی غرض۔آپ لاہور کے رہنے والے ہیں اور آپ کے خاندان کے لوگ اس بات کو اچھی طرح جان سکتے ہیں۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ہم نے کوئی فائدہ اٹھایا ہے یا اس کی خواہش کی ہے؟ عبد الحکیم : کیا آپ کا وفد لارڈ ریڈنگ کے پاس گیا تھا؟ حضرت : ہاں۔عبد الحکیم : کیا غرض تھی ؟