زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 153

زریں ہدایات (برائے طلباء) 153 جلد سوم حضرت : موریلٹی کے پوائنٹ آف ویو میں بھی تو اختلاف ہے تو جب اخلاقی نقطہ نگاہ مختلف ہوئے تو پھر کس پہلو پر فیصلہ ہوگا۔عبدالحکیم : میں تو یونہی درمیان میں آ گیا۔“ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئے اور حضرت کا سلسلہ کلام پھر سے طالب علم سے شروع ہوا ) حضرت : بہتر ، پھر وہی سوال آ گیا کہ اگر حضرت ابو بکر کا زمانہ ہو اور غیر مسلم علاقے بغاوت کریں اور کہیں کہ ہم آپ کے ماتحت نہیں رہنا چاہتے آپ کو کوئی حق نہیں تو پھر آپ کیا ایڈوائز (Advise) کریں گے، کیا مشورہ دیں گے؟ پہلا طالب علم : جب وہ لوگ چاہیں گے کہ ہم یہ حکومت نہیں چاہتے تو ان کو چاہئے کہ آزاد کر دیں اور ان پر سے اپنی حکومت اٹھا لیں۔حضرت : تو اب یہ اصل قائم ہوا کہ جب کوئی قوم اپنی غیر قوم حکمران کو کہے کہ ہمارا علاقہ خالی کر دو تو خالی کر دینا چاہئے۔اب ہم واقعات سے دیکھتے ہیں کہ ہمارے آباء و اجداد کا کیا عمل ہے؟ انہوں نے تو کسی علاقہ کو نہیں چھوڑا۔اس اصل کو قائم کر کے اب آگے چلائیے۔اس موقع پر طالب علم مذکور نے تو کوئی جواب نہ دیا۔اور پھر پروفیسر عبد الحکیم صاحب نے دخل دیا) عبد الحکیم : جنرل تھیوری یہ ہے کہ کسی قوم کا حق نہیں کہ دوسری قوم پر اپنی اغراض کے لئے حکومت کرے خواہ وہ قوم کوئی ہی ہو ، ہاں اس کی اصلاح کے لئے حکومت کرے۔حضرت اس قوم کے ارادہ اور مرضی کے موافق یا اس کے خلاف؟ عبد الحکیم : اس کا فیصلہ مشکل ہے۔حکومت کے افعال کو دیکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ یہ فعل جائز ہے یا نا جائز۔حضرت : جب فیصلہ مشکل ہے تو جائز ناجائز کا فیصلہ کون کرے گا۔جس حکومت کو کہا جاوے کہ نا جائز ہے اس کا ہر فعل نا جائز ہوگا۔کیا ہندوستانی حکومت کے قابل ہیں عبدالحکیم : اصل بات یہ ہے کہ کیا آپ ہندوستانیوں کو حکومت کے قابل سمجھتے ہیں؟