زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 145

زریں ہدایات (برائے طلباء) 145 جلد سوم اولا د ہوتے ہیں فرق نظر آئے گا اور ہوتا ہے۔آواز میں ، قد و قامت میں ، خیالات اور مذاق میں مگر یہ اختلاف ان کو اس ایک حقیقت سے کہ وہ بھائی ہیں اور ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں جدا نہیں کر دیتا۔اسی طرح میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ اسلام کا حقیقی چہرہ ہم دنیا کو دکھا ئیں اور یہی کام ہم کر رہے ہیں ممکن ہے تفاصیل میں کوئی اختلاف نظر آئے مگر روح وہی ہے جس سے میں اتفاق کرتا ہوں اور میں خوش ہوں کہ آپ نے یہ خواہش پیش کی ہے۔میں اس ایڈریس کو سن کر اور بھی خوش ہوا ہوں کہ اشاعت اسلام کا سوال آپ لوگوں کے زیر نظر ہے اور ہم تو اسی کام کے لئے پیدا ہوئے ہیں اور اسی سوال کے لئے میں نے یہ سفر کیا ہے۔مجھے کو اس بات سے اور بھی خوشی ہوئی ہے کہ اس ایڈریس کو پڑھنے والے صاحب ہندو ہیں۔میں نے ابھی کہا ہے کہ جو شخص طلب صادق کے ساتھ حق کی طرف قدم اٹھاتا ہے اور کوشش کرتا ہے اس پر حقیقت کھل جاتی ہے اور وہ راہ پالیتا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا یعنی جو پورے طور پر کوشش کرتے ہیں ہم کو اپنی ذات کی قسم ہے کہ سچائی کی طرف اسے کھینچ کر لاتے ہیں۔جب انسان اس روح کو لے کر کوشش کرتا ہے تو نتیجہ با برکت ہوتا ہے۔غرض میں آپ کی ان نیک خواہشوں کو جو اشاعت اسلام کے موافق ہیں بہت خوشی اور قدر کی نظر سے دیکھتا ہوں مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہوں کہ مجھ سے آپ منافقانہ رنگ کی امید نہ رکھیں۔جس تعلیم کو میں سمجھتا ہوں کہ وہ حق ہے اور وہی حق ہے جس کے بغیر اسلام کا میاب نہیں ہو سکتا میں اسی کو پیش کروں گا اور دنیا کی کوئی چیز اور طاقت اس حق کے پیش کرنے سے مجھ کو روک نہیں سکتی اس لئے کہ سب سے پیاری چیز میرے لئے وہی ہے۔پس میں پھر کہتا ہوں کہ آپ کی ایسی نیک خواہشوں کی قدر کرنے کے باوجود آپ کو یا درکھنا چاہئے کہ مجھ سے یہ امید نہ رکھیں کہ میں منافق کا پارٹ پہلے (part play) کروں گا۔