زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 134
زریں ہدایات (برائے طلباء) 134 جلد سوم یا درکھو کہ اخلاق بالکل الگ چیز ہیں اور مذہب الگ۔لیکن اخلاق کے بغیر مذہب حاصل نہیں ہو سکتا۔پس اخلاق کو اس لئے ترک نہ کرو اور نہ اس لئے حقیر سمجھو کہ وہ مذہب نہیں اور نہ یہ سمجھو کہ وہ مذہب کا حصہ ہیں۔ان کو اپنی اپنی جگہ سمجھو اور اخلاق فاضلہ حاصل کرو تا کہ لوگ تمہاری باتوں سے متاثر ہوں۔تمہاری گفتگو میں ایسی نرمی، محبت اور ہمدردی ہو کہ تم ایک ممتاز درجہ رکھو۔کیونکہ تم اس بات کے مدعی ہو کہ تمہیں سچا مذ ہب حاصل ہو گیا ہے۔مگر مذہب تو اخلاق کے بعد حاصل ہوتا ہے۔اگر تمہارے اخلاق اعلیٰ نہیں تو یہ کس طرح سمجھ لیا جائے کہ تمہیں مذہب حاصل ہو گیا ہے۔کوئی کہے میں ایف ایس سی میں پڑھتا ہوں مگر اس نے میٹرک پاس نہ کیا ہو تو کس طرح اس کی بات قابل تسلیم ہو سکتی ہے۔اسی طرح اگر کسی میں اخلاقی عیب پائے جاتے ہیں تو دنیا کس طرح اس کی یہ بات ماننے کے لئے تیار ہوسکتی ہے کہ اسے مذہب مل گیا ہے۔پس تم اخلاق فاضلہ پیدا کرو۔ان کے بغیر نہ تم دوسروں کو تبلیغ کر سکتے ہو اور نہ خود روحانیت حاصل کر سکتے ہو۔پھر جب تم کالجوں میں جاتے ہو تو تم پر اور بھی کئی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ماں باپ تم پر اس لئے روپیہ خرچ کرتے ہیں کہ تم تعلیم حاصل کرو۔نہ کہ تماشے دیکھتے پھرو۔ہر ایک مسلمان میں یہ غیرت ہونی چاہئے کہ وہ ہر کام میں دوسروں سے اعلیٰ ہو۔اور میں کسی اچھی بات میں بھی مسلمانوں کو پیچھے نہیں دیکھنا چاہتا مگر ہماری جماعت کے لڑکے اس طرف توجہ نہیں کرتے۔کیا وجہ ہے کہ پروفیسر ایک ہی ہوتا ہے لیکن ہندولڑ کے بڑھ جاتے ہیں اور مسلمان پیچھے رہ جاتے ہیں۔تمہیں چاہئے کہ ایسے اعلیٰ طریق پر تعلیم حاصل کرو کہ کسی سے پیچھے نہ رہو بلکہ اول رہو۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم اپنے مذہبی فرائض کو قربان کر کے تعلیم میں لگے رہو بلکہ یہ کہتا ہوں کہ سینما و غیرہ کو قربان کر کے اپنا وقت تعلیم میں لگاؤ۔مگر اب یہ نہیں معلوم ہوتا کہ احمدی لڑکوں میں اس بات کی غیرت ہے کہ تعلیم میں دوسروں سے بڑھ جائیں حالانکہ کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس میں یہ جذبہ نہ پایا جائے۔یہ طبعی مسئلہ ہے کہ کوئی چیز خواہ وہ نباتات میں سے ہو یا حیوانات میں سے اگر اس میں یہ احساس نہ ہو کہ مجھے دوسروں سے بڑھنا ہے تو وہ زندہ نہیں رہ سکتی۔ایک درخت کے پاس جاؤ جب وہ بیج پیدا کر رہا ہواور دیکھو کہ کتنے بیج پیدا کرتا ہے۔