زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 133
زریں ہدایات (برائے طلباء) 133 جلد سوم اگر تم اب تیاری نہ کرو گے تو بڑے ہو کر کچھ نہیں کر سکو گے۔جولڑ کا بچپن میں تہجد پڑھنے کی عادت | نہیں ڈالتا وہ بڑا ہو کر صبح کی نماز بھی نہیں پڑھے گا۔ابھی سے اس تیاری میں لگ جاؤ اور خصوصاً قادیان سے جانے والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنا اچھا نمونہ پیش کریں تا کہ دوسروں پر بُرا اثر نہ پڑے۔یہاں سے ان کے جانے پر پتہ لگتا ہے کہ وہ یہاں جو نمازیں پڑھتے تھے دل سے پڑھتے تھے یاڈر سے۔اگر وہاں جا کر نمازوں کو پابندی کے ساتھ ادا نہیں کرتے تو معلوم ہوا کہ یہاں ڈر سے پڑھا کرتے تھے۔چاہئے کہ نماز کی پوری پوری پابندی اختیار کریں۔یہ بات خوب اچھی طرح یا درکھو۔یہ میرا تجربہ ہے اور میں نے سینکڑوں پر کر کے دیکھا ہے کہ کوئی شخص خواہ کتنا بگڑ جائے مگر نماز کا پابند ہو تو بالآخر اس کی اصلاح ہو جائے گی اور اُسے حالت درست بنانے کی تو فیق مل جائے گی۔لیکن بظاہر خواہ کوئی کتنا ہی اچھا ہو مگر نماز کا پابند نہ ہو تو وہ خراب ہو جائے گا۔تم نماز کو ایسا ہی سمجھو جیسا کہ جہاز کے لئے لائف بوٹ ہوتے ہیں۔کبھی اس کو ضائع نہیں کرنا چاہئے اور اس کی ادائیگی میں کبھی سستی نہ کرنی چاہئے۔اس کے بعد میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اخلاق فاضلہ کے بغیر کوئی مذہب قائم نہیں رہ سکتا۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ کالج میں داخل ہونے کے لئے سکول میں داخل ہونے کی کیا ضرورت ہے۔جب تک کوئی سکول میں نہ جائے گا کالج میں داخل نہیں ہوسکتا۔اسی طرح روحانیت میں ترقی حاصل نہیں ہو سکتی جب تک اخلاق فاضلہ نہ ہوں۔اگر یہ پوچھے کہ کیا اخلاق فاضلہ مذہب ہیں؟ تو میں کہوں گا نہیں مگر مذہب کے لئے پہلی سیڑھی ہیں جس کے بغیر کوئی مذہب میں داخل نہیں ہوسکتا۔پس اخلاق مذہب نہیں مگر اخلاق کے بغیر مذہب حاصل نہیں ہو سکتا۔میں ان دونوں باتوں پر علیحدہ علیحدہ زور دیتا ہوں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت لوگوں کو دھوکا لگا ہوا ہے کہ اخلاق مذہب ہے اور چونکہ اخلاقی تعلیم سب مذاہب میں پائی جاتی ہے ہندو، بدھ ، عیسائی ، مسلمان سب یہی کہتے ہیں کہ چوری بری ہے، جھوٹ نہیں بولنا چاہئے ، لڑائی فساد نہیں کرنا چاہئے ، وغیرہ وغیرہ اس لئے وہ لوگ جو اخلاق کو مذہب قرار دیتے ہیں کہہ دیتے ہیں یہ مختلف مذاہب آپس میں خواہ مخواہ جھگڑے پیدا کرتے ہیں اخلاقی باتوں کو مان لینا کافی ہے۔مگر خوب