زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 132
زریں ہدایات (برائے طلباء) 132 جلد سوم ہمارا بھی حصہ ہونا چاہئے۔اور ہماری اس تعلیم کو کہ اس شورش میں حصہ نہ لو اپنے لئے روک سمجھتے تھے۔مگر اب تسلیم کیا جا رہا ہے کہ جو کچھ ہم کہتے تھے وہی صحیح تھا اور جو کچھ وہ کر رہے تھے غلطی تھی۔چنانچہ صفائی کے ساتھ دوسرے لوگوں کی طرف سے تسلیم کیا جا رہا ہے کہ بڑے بڑے وعدوں سے لیڈروں نے لوگوں کے دلوں میں ایسی امیدیں پیدا کر دیں جو کبھی پوری نہیں ہو سکتی تھیں اور اس طرح وہ اب بددل ہو گئے ہیں۔تو سیاسی تحریکیں جو بہت گہرا اثر رکھنے والی اور توجہ کو بہت زیادہ کھینچنے والی ہوتی ہیں ان سے بھی ہم نے اپنے آدمیوں کو روکے رکھا ہے۔وجہ یہ ہے کہ ایسی تحریکیں ساری توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں اور بعض دفعہ یہ جائز بھی ہوتی ہیں تو بھی ان سے روک دیا جاتا ہے۔کیونکہ اگر کوئی کسی کام کے لئے جار ہا ہو مگر راستہ میں کسی جائز چیز کو دیکھنے کے لئے ٹھہر جائے تو وقت پر نہ پہنچ سکے گا۔اسی طرح جو شخص اور تحریکوں کی طرف متوجہ ہو جائے گا وہ خدمت دین سے محروم رہ جائے گا۔تم لوگ اگر اور باتوں میں پڑ جاؤ گے تو تمہاری زندگی کا جو اصل مدعا ہے اُسے کس طرح پورا کرو گے تمہیں یادرکھنا چاہئے کہ تمہارے سامنے بہت بڑا کام ہے اور تمہارا مدعا نہایت عظیم الشان ہے۔اگر اس بات کو تم یاد نہ رکھو گے اور ہر وقت یہ تمہارے سامنے نہ رہے گی تو تم کچھ نہ کر سکو گے۔پس اپنے کام کو مدنظر رکھو۔بے شک اس قسم کی باتیں نا جائز نہیں مگر اس کے لئے موقعے دیکھو۔اگر تم سینما دیکھتے رہو اور مخالفین تیاریوں میں لگے رہیں تو تم ان کا کس طرح مقابلہ کر سکو گے۔بیسیوں ٹریکٹ آریوں کی طرف سے اور عیسائیوں کی طرف سے نکلتے ہیں۔اگر ابھی سے ان کے جواب دینے کی تیاری نہ کرو گے تو وہ کون لوگ ہوں گے جو جواب دیں گے۔پس ایک میری یہ نصیحت ہے کہ اپنے اوقات کو صحیح طور پر خرچ کرو اور ابھی سے اس کام کے لئے تیاری کرو۔اگر تم نے مذہبی میدان میں کام کرنا ہے تو کرنے سے پہلے اس کام کی تیاری میں لگ جاؤ کیونکہ آج فرصت کے جو لمحے تمہیں حاصل ہیں وہ کل نہ ہوں گے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ ان لغو اور فضول باتوں کو جانے دو کہ فلاں چیز حرام ہے یا حلال۔اور ایسے کاموں میں اپنے اوقات صرف کردو کہ جو دین کے لئے مفید ہوں۔اس طرز پر