زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 131

زریں ہدایات (برائے طلباء) 131 جلد سوم گے جو احادیث سے بے خبر ہوں گے۔کئی ایسے ہوں گے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام | کی کتب نہیں پڑھی ہوں گی۔کئی ایسے ہوں گے جو مخالفین کے اعتراضات کے جواب نہیں جانتے ہوں گے ان کو اپنے اوقات ان باتوں میں لگانے چاہئیں۔اب تو یہ حالت ہے کہ کئی طالب علم پامال شدہ اعتراضات کو سن کر گھبرا جاتے اور لکھتے ہیں کہ ان کا ضرور جواب دینا چاہئے۔حالانکہ کئی بار ان کا جواب دیا جا چکا ہوتا ہے۔مگر ان کی حالت ایسی ہی ہوتی ہے جیسے مثل ہے کہ ایک گیدڑ کا بچہ تھا ایک دن جو تیز ہوا چلی تو وہ ماں سے کہنے لگا جب سے میں پیدا ہوا ہوں کبھی اس زور کی آندھی نہیں آئی۔ماں نے کہا تجھے پیدا ہوئے ہی کتنا عرصہ ہوا ہے۔اسی طرح بعض طلباء ایسے ایسے اعتراض بڑی حیرانی اور پریشانی کے ساتھ پیش کرتے ہیں جن کے بیسیوں دفعہ جواب شائع ہو چکے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ آج تک کسی نے ایسے اعتراضات نہیں کئے۔احمد یہ ہوٹل کے ہی ایک لڑکے نے اس قسم کا ایک سوال لکھا تھا حالانکہ کئی دفعہ اس کا جواب شائع ہو چکا مگر جو سلسلہ کے لٹریچر کو دیکھتا ہی نہیں اُسے کیا معلوم ہو سکتا ہے۔مثلاً الفضل جائے اور اسے حقارت سے پرے پھینک دے، میرا کوئی مضمون جائے اسے ادب کی وجہ سے پھینکے تو نہ مگر رکھ چھوڑے کہ پھر پڑھیں گے اور پھر پڑھنے کا موقع ہی نہ آئے تو اسے اعتراضات کے جواب کس طرح معلوم ہوں۔اس کو تو سینما کے حالات معلوم ہوں گے کیونکہ وہاں جانا وہ اپنا فرض سمجھتا ہے۔مگر یاد رکھو اس قسم کی باتیں تمہارے فرائض میں داخل نہیں بلکہ یہ عیسائیوں کے فرائض ہیں ان کو ادا کرنے دو۔اور وہ تو اس میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ یورپ میں گاؤں اس لئے اجڑنے لگ گئے ہیں کہ وہاں سینما نہیں ہوتے اور دیہاتوں کے لوگ شہروں میں جارہے ہیں۔بے شک تمہارے دلوں میں بھی سینما وغیرہ دیکھنے کا شوق پیدا ہوتا ہوگا اور تمہیں بھی جوش آتا ہو گا کہ دوسروں کی طرح تم ان باتوں میں حصہ لو مگر یا درکھو ان سے بچنا ہی تمہارے لئے بہتر ہے۔دیکھو جب مسٹر گاندھی کا شور اٹھا تو کئی احمدیوں کے دلوں میں بھی جوش پیدا ہو گیا اور ان کی ایسی حالت تھی جیسے منہ زور گھوڑے کے منہ میں لگام دے کر اُسے زور سے روکا جائے۔وہ سمجھتے تھے سوراج ایک پکا ہوا سیب ہے جسے دوسرے حاصل کر لینے لگے ہیں اس میں